اہم ترین خبریںپاکستان

اموی خلیفہ عمر بن عبدالعزیز کے دل میں محبت مولا علیؑ کیسے پیدا ہوئی ؟؟

عمر بن عبدالعزیز کا مولا علی ع پر سب و شتم ختم کروانے یہ کام بڑی وقعت کی نظر دیکھا گیا اور سب نے ان کی بڑی تعریف کی ۔

شیعت نیوز: علامہ ابن اثیر اپنی مشہور کتاب الکامل میں لکھتے ہی
عمر بن عبدالعزیز کی خلافت سے پہلے تمام سلاطین بنو امیہ امیرالمومنین مولا علی ع پر سب و شتم کرتے تھے لیکن عمر بن عبدالعزیز نے اس کو سختی سے روکا اور تمام اعمال کو اس گناہ عظیم سے روکنے کی تاکید کی ۔ عمر بن عبدالعزیز کو مولا علی ع سے محبت پیدا ہونے کی صورت یہ ہوئی جیسا کہ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ میں مدینہ منورہ میں علم کی تحصیل کر رہا تھا اور اس زمانہ میں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے درس حاصل کر رہا تھا ، ان کو میرے متعلق یہ معلوم ہوا کہ میں مولا علی ع کو برے الفاظ کے ساتھ یاد کرتا ہوں ، ایک دن میں ان کی خدمت میں ایسے وقت حاضر ہوا جب وہ نماز میں مشغول تھے ، میں انتظار کرنے لگا جب وہ فارغ ہوئے تو مجھ سے کہنے لگے کہ تم کو یہ کس طرح معلوم ہوا کہ اللہ اصحاب بدر اور اصحاب بیعت رضوان سے خوش ہونے کے بعد ان پر غضب ناک ہوا ، میں نے کہا کہ میں نے یہ کسی سے نہیں سننا تو فرمانے لگے کہ پھر مجھے کس طرح معلوم ہوا کہ تم مولا علی ع کو برا سمجھتے ہو ۔ میں نے کہا کہ اب میں اللہ سے اس فعل کی معذرت چاہتا ہوں اور پھر آپ سے عفو کا خواست گار ہوں ۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آئیندہ سے ایسا کبھی نہ ہوگا ۔

یہ بھی پڑھیں: شام میں داعش نے قبور حضرت عمر بن عبدالعزیز واہلیہ کی بے حرمتی کر ڈالی

بات یہ تھی کہ میرے والد جب خطبہ دیتے تھے تو مولا علی ع پر جب سب و شتم کے الفاظ کا زکر کرنا چاہتے تو ان کی زبان لٹ ٹپا جاتی ، میں نے پوچھا کہ بابا آپ خطبہ میں بے تکلف کہتے چلے جاتے ہیں لیکن جب مولا علی ع کا ذکر آتا تو مجھے آپ کی تقریر میں نقص معلوم ہوتا ہے ۔
انھوں نے کہا کہ کیا تم اس کو سمجھ گئے ۔ میں نے کہا : ہاں ! کہنے لگے ، بیٹا ، جو لوگ ہمارے گرد بیٹھے ہیں اگر ان کو اتنا معلوم ہوجائے جتنا ہم علی بن ابی طالب ع کے متعلق جانتے ہیں تو یہ لوگ ہم کو چھوڑ کر علی بن ابی طالب ع کی اولاد کے پاس جمع ہوجائیں گے۔

جب عمر بن عبدالعزیز حکمران ہوئے تو ان کے دل میں دنیا کی کسی چیز سے الفت باقی نہ رہی تھی کہ جس کے لئے وہ اتنا عظیم الشان گناہ کرتے ، اس لئے انھوں نے سب علی بن ابی طالب ع کو یک سر چھوڑ دیا اور لوگوں کو اس کے چھوڑنے کا حکم دیا ۔ مولا علی ع پر سب و شتم کے بجائے خطبہ میں اس آیت کی تلاوت کرتے تھے ۔

یہ بھی پڑھیں: ناصبی اوریا مقبول جان اور اورنگزیب فاروقی کی حضرت عمر بن عبدالعزیز کی قبر کی بے حرمتی پر فرقہ وارانہ سازش ناکام

إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى {النحل: 90}

اللہ عدل ، احسان اور اقرباء کی اعانت کرنے کا حکم دیتا ہے۔

عمر بن عبدالعزیز کا مولا علی ع پر سب و شتم ختم کروانے یہ کام بڑی وقعت کی نظر دیکھا گیا اور سب نے ان کی بڑی تعریف کی ۔

کثیر غزہ نے یہ اشعار کہے :

اے عمر ! جب تم والی ہوئے تم نے مولا علی ع کو برا بھلا نہیں کہا
اور نہ تم نے کسی بے گناہ کو ڈرایا اور نہ کسی مجرم کے قول کی اتباع کی
تم ہمیشہ کہی ہوئی حق بات کہتے ہو اور در حقیقت
ہدایت کی نشانیاں حق گوئی ہی سے رو نما ہوتی ہیں
تم نے جس اچھے کام کے متعلق حکم دیا اس کو
پہلے کر کے دکھا دیا ، جس سے ہر مسلم کا دل تم سے خوش ہے ۔
بے شک انسان کھلی کج روی اور گمراہی کے بعد ۔۔۔
یہ کافی ہے کہ اس کو ایک اصلاح کرنے والا درست کر سکتا ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: حضرت عمر بن عبدالعزیز کے قتل کی ایف آئی آر

جب عمر بن عبدالعزیز نے یہ اشعار سنے تو بولے کہ اب ہم فلاح پا چکے ۔
انتخاب و ترجمہ : سید حسنی الحلبی

عربی متن :

فقد ذكر ابن الأثير في الكامل أنه كان بنو أمية يسبون أمير المؤمنين علي بن أبي طالب، إلى أن ولي عمر بن عبد العزيز الخلافة، فترك ذلك وكتب إلى العمال في الآفاق بتركه. وكان سبب محبته عليا أنه قال: كنت بالمدينة أتعلم العلم، وكنت ألزم عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، فبلغه عني شيء من ذلك، فأتيته يوما وهو يصلي، فأطال الصلاة، فقعدت أنتظر فراغه، فلما فرغ من صلاته التفت إلي فقال لي: متى علمت أن الله غضب على أهل بدر وبيعة الرضوان بعد أن رضي عنهم؟ قلت: لم أسمع ذلك. قال: فما الذي بلغني عنك في علي؟ فقلت: معذرة إلى الله وإليك! وتركت ما كنت عليه، وكان أبي إذا خطب فنال من علي رضي الله عنه، تلجلج فقلت: يا أبه إنك تمضي في خطبتك فإذا أتيت على ذكر علي عرفت منك تقصيرا؟ قال: أو فطنت لذلك؟ قال: نعم. فقال: يا بني إن الذين حولنا لو يعلمون من علي ما نعلم تفرقوا عنا إلى أولاده. فلما ولي الخلافة لم يكن عنده من الرغبة في الدنيا ما يرتكب هذا الأمر العظيم لأجلها، فترك ذلك وكتب بتركه وقرأ عوضه: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَى {النحل: 90}. فحل هذا الفعل عند الناس محلا حسنا وأكثروا مدحه بسببه، فمن ذلك قول كثير عزة:

وليت ولم تشتم عليا ولم تخف** بريا ولم تتبع مقالة مجرم

تكلمت بالحق المبين وإنما** تبين آيات الهدى بالتكلم

وصدقت معروف الذي قلت بالذي** فعلت فأضحى راضيا كل مسلم

ألا إنما يكفي الفتى بعد زيغه** من الأود البادي ثقاف المقوم.

فقال عمر حين أنشده هذا الشعر: أفلحنا إذا.

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close