مقبوضہ فلسطین

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل اتحاد کا قومی اتحاد سے مقابلہ کریں گے

شیعت نیوز : اسلامی مزاحمتی تحریک حماس اور جہاد اسلامی کے سربراہوں نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کو فوری طور پر منسوخ کیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ اورجہاد اسلامی کے سربراہ زیاد النخالہ نے ایک دوسرے سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔

دونوں رہنماؤں نے اس ٹیلیفونی گفتگو میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے شرمناک سمجھوتے کے بارے میں قومی اتفاق رائے پر زور دیا۔

متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کے باضابطہ اعلان کے بعد فلسطینی اتھارٹی نے رام اللہ میں متعین متحدہ عرب امارات کے سفیر کو دفتر خارجہ میں طلب کیا ہے جبکہ ابوظہبی میں متعین اپنے سفیر کو واپس بلا لیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے متحدہ عرب امارات کے اس شرمناک اقدام کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تمام فلسطینی رہنماؤں کا اجلاس بلانے اعلان کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : یواےای کے بعد مزید کتنےعرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرنے والے ہیں ؟ اہم انکشاف

عوامی محاذ برائے آزادی فلسطین نے بھی متحدہ عرب امارات کے اس اقدام کو فلسطینیوں کے ساتھ غداری اور نئی سازش قرار دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام کے باضابطہ اعلان کا کئی لحاظ سے جائزہ لیا جاسکتا ہے۔

پہلی بات یہ ہے کہ یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب لبنانی اور فلسطینی مزاحمتی تحریک کے ہاتھوں اسرائیلی فوج کی شکست اور ناکامی بارہا ثابت ہوچکی ہے اور اس کے ناقابل شکست ہونے کا افسانہ کئی بار چکناچور ہوچکا ہے۔ اس معاہدے کا اعلان سن دوہزار چھے کی تینتس روزہ جنگ میں اسرائیل کے خلاف تحریک مزاحمت کی شاندار کامیابی کی سالگرہ کے موقع پر کیا گیا ہے اور اسرائیل پچھلے بہتر سال کے بدترین دور سے گزر رہا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس امن کے بدلے کیا حاصل ہوا ہے؟ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ وادی عربہ اور اوسلو معاہدہ آزادی کے بدلے زمین کا معاہدہ تھا۔ مذکورہ معاہدوں کے ذریعے سرزمین فلسطین کے بعض مقبوضہ علاقوں کو آزاد کیا جانا تھا لیکن متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے حالیہ معاہدے کے تحت سرزمین فلسطین کی ایک انچ زمین بھی آزاد نہیں ہوگی اور غرب اردن کے اسرائیل میں الحاق کا معاملہ بھی منسوخ نہیں بلکہ عارضی طور سر ملتوی کیا گیا ہے۔

تیسری بات یہ ہے کہ متحدہ عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کے قیام کا معاہدہ ناپاک سینچری ڈیل منصوبے کے تحت انجام پایا ہے۔ عرب ملکوں کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ سینچری ڈیل کی اہم شق ہی نہیں بلکہ اس منصوبے کی روح ہے۔ بنا برایں متحدہ عرب امارات کا یہ اقدام اس بات کا سبب بنے گا کہ بحرین جیسے ممالک بھی اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کی جانب اگلا قدم بڑھائیں۔ اس حوالے سے ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا ہے کہ بحرین دوسرا عرب ملک ہوگا جو متحدہ عرب امارات کی طرح اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے قیام کا باضابطہ اعلان کرے گا۔

چوتھی بات یہ ہے کہ پہلے ہی خطے کے بعض ملکوں کی خارجہ پالیسی میں فلسطینی اور عرب کاز کا رنگ کافی پھیکا پڑچکا تھا اب موجودہ معاہدے سے واضح گیا ہے کہ ان دونوں فیکٹرز کو سرے سے باہر کردیا گیا ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close