دنیا

اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر کی امریکی صدر پر کڑی نکتہ چینی

شیعت نیوز : اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر نے ذرائع ابلاغ پر امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے کئے جانے والے حملوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ان حملوں سے عالمی سطح پر آزادی بیان پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

رویٹرز کی رپورٹ کے مطابق آزادی بیان کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر ڈیوڈ کیئی نے منگل کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ بات مکمل طور پر واضح ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے گذشتہ چار برسوں سے ایسا رویہ اختیار کر رکھا ہے جس سے ذرائع ابلاغ اور آزادی بیان کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ کی قانون اور سفارتکاری کی تذلیل عالمی امن کیلئے خطرہ ہے۔ جوادظریف

انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ وائٹ ہاؤس سے ڈونلڈ ٹرمپ کے چلے جانے کے بعد امریکہ میں ذرائع ابلاغ عامہ اور نامہ نگاروں اور صحافیوں پر حملوں کا سلسلہ کم ہو جائے گا۔ ڈیویڈ کیئی نے ذرائع ابلاغ اور نامہ نگاروں اور اسی طرح صحافیوں پر حملوں اور ان پر جھوٹ بولنے کے الزامات کو امریکی صدر ٹرمپ کا وطیرہ قرار دیا۔

آزادی بیان کے امور میں اقوام متحدہ کے خصوصی رپورٹر نے اسی طرح کہا کہ سعودی حکومت مخالف صحافی جمال خاشقچی کے قتل جیسے جرائم پر امریکہ کی سابقہ حکومتیں موجوہ ٹرمپ انتظامیہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ردعمل دکھاتی تھیں۔

ڈیوڈ کیئی نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ، پریس کانفرنسوں کے انعقاد پر اصرار اور اپنے حامی ذرائع ابلاغ کے ساتھ انٹرویو میں بیشتر اوقات دیگر ذرائع ابلاغ عامہ اور نامہ نگاروں اور صحافیوں کو ہدف تنقید بناتے رہے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close