اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

عالم اسلام کی مشکلات کا حل اتحاد امت

عالم اسلام کی مشکلات کا حل اتحاد امت

عالم اسلام کی مشکلات کا حل اتحاد امت میں پوشیدہ ہے، ہر سال ماہ ربیع الاول اس راز کو فاش کرنے کے لیے طلوع ہوتا ہے۔ رب العالمین کے آخری پیامبر، آخری رسول رحمت للعالمین محمد مصطفی ﷺ مظلوم و محکوم رنج دیدہ ستم رسیدہ انسانیت کے لیے دنیا و آخرت میں نجات کا ذریعہ ہیں۔ امت مسلمہ تا امت واحدہ کی منزل تک رہنمائی کرنے والی معصوم ترین ہستی حضرت محمد خاتم الانبیاء ﷺ ہی ہیں۔

اتحاد کے عملی نمونے

جب امت اسلامی متحد ہواکرتی تھی تو فلسطین کی آزادی کی جنگ کوئی ملک تنہا نہیں لڑا کرتا تھا۔ فلسطینیوں سے زیادہ مصر اور شام اور دیگر عرب ممالک ان سے آگے مسلح ہوکر لڑا کرتے تھے۔ جب جنگ رمضان 1973ہورہی تھی تو عرب ملک شام کے دفاع کے لیے پاکستان ایئرفورس یعنی پاک فضائیہ کے ستار علوی جیسے پائلٹ افسران اسرائیلی جنگی طیاروں کو مار گرایا کرتے تھے۔

یہ اتحاد کے عملی نمونے تھے جو عالم اسلام میں بکثرت پائے جاتے تھے۔ لیکن پھر امریکی زایونسٹ بلاک نے امت اسلامی کو ان گنت مصنوعی مسائل میں الجھاکر منقسم کردیا۔ اسلامی ممالک میں دانستہ طور پر مصنوعی اقتصادی بحران ایجاد کیا۔ اور اس کو مسلسل برقرار رکھنے کے لیے ناامنی ایجاد کی۔ حتیٰ کہ ناامنی، خود و دہشت اور غیر یقینی صورتحال کو مستقل بنیادوں پر مسلط کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر دہشت گردی کرنے والے ٹولے ایجاد کیے۔

امریکی زایونسٹ بلاک کے ایجاد کردہ خوارج

پہلے مسلمان اپنے حسن اخلاق سے غیر مسلموں کو مسلمان ہونے پر مائل کیا کرتے تھے۔ امریکی زایونسٹ بلاک کے ایجاد کردہ خوارج صفت ناصبی تکفیری مسلمانوں کو کافر اور مشرک کہہ کر بدنام کرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عالم اسلام داخلی مشکلات کا شکار ہوتا چلا گیا۔

غیر نمائندہ موروثی شاہ و شیوخ و ڈکٹیٹر

غیر نمائندہ موروثی شاہ و شیوخ و ڈکٹیٹر پہلے کسی نہ کسی حد تک اسرائیل کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوجاتے تھے۔ اس ایشو پر کمپرومائز کرنا ناممکن ہوا کرتا تھا۔ امریکی زایونسٹ بلاک نے انہیں بلیک میل کرکے خفیہ روابط کا سلسلہ شروع کردیا۔ متحدہ عرب امارات نے ان تعلقات کا رسمی اعلان اب کیا ہے ورنہ تعلقات تو ربع صدی سے قائم ہوچکے تھے۔ بحرین کا حال بھی مختلف نہ تھا۔

 فلسطین کے سب سے بڑے مدافع

سال1979ع سے پہلے عرب ممالک فلسطین ایشو کے سب سے بڑے مدافع ہوا کرتے تھے لیکن جب ایران نے مسئلہ فلسطین پر مسلح مقاومت کرنے والوں کی مدد و حمایت کرنا شروع کی تو یہ عرب اپنے عشروں پرانے فلسطین دوست موقف سے پیچھے ہٹتے چلے گئے۔ حالانکہ انقلاب اسلامی ایران کے بعد تو عرب و عجم مسلمانوں کے اتحاد کی مستحکم و مضبوط بنیاد فراہم ہوچکی تھی۔

امریکی ڈکٹیشن

بجائے اتحاد کے امریکی زایونسٹ بلاک کے دوست اور اتحادی عرب ممالک نے امریکی ڈکٹیشن پر ایران کو اپنا دشمن ظاہر کرنے کے لیے جھوٹے الزامات لگانا شروع کردیے۔ اور مصنوعی بحرانوں کے ذریعے عرب مسلمان عوام کی توجہ اصل ایشوز سے ہٹادی۔ مسئلہ فلسطین کو دفناکر رکھ دیا۔

زایونسٹ بلاک کی ڈکٹیشن

امریکی زایونسٹ بلاک کی ڈکٹیشن پر بھارت کے ساتھ تعلقات کو اس حد تک مستحکم کردیا کہ مسئلہ کشمیر کو اسلامی ایشو ماننے سے انکار کردیا۔ پاکستان جیسے قریبی اور محسن دوست برادر ملک پر بھارت کی مودی سرکار کو فوقیت اور ترجیح دینے لگے۔ حتیٰ کہ پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ کشمیر ایشو کو امت اسلامی کے ایشو کے طور پر پیش نہ کرے۔

عالم اسلام کی مشکلات کا حل اتحاد امت

پہلے صرف فلسطین و کشمیر ایشوز تھے۔ امریکی زایونسٹ بلاک کی ڈکٹیشن پر لبیا، شام اور سوڈان میں بھی بحران اور مشکلات ایجاد کرکے امت اسلامی کو داخلی محاذ پر الجھادیا، منقسم کردیا۔ میانمار کے بحران پر بھی کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کیے۔ بلکہ یمن پر فوجی جارحیت اور یلغار کرکے وہاں کا امن و سکون بھی تباہ کرکے رکھ دیا۔ یہ سعودی عرب کی قیادت میں امارات و بحرین سمیت بہت سے ممالک کی حکومتوں اور افواج کی وہ حرکتیں ہیں جو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کو نہ صرف ناراض کرتیں ہیں بلکہ ان کے غضب، قہر اور عذاب کا سبب بننے کے لیے کافی ہیں۔

بنوامیہ کے حکمرانوں کی قصیدہ خوانی

ماہ ربیع الاول 1442ہجری قمری کا نوری مہینہ امت اسلامی کی اس مشکل ترین مصیبت کا نوحہ لے کر طلوع ہوا ہے۔ امت اسلامی نے ماہ محرم و صفر میں جو کچھ پاکستان میں ملاحظہ کیا، یہ اس بہت بڑی مشکل کا محض ایک حصہ ہے۔ اللہ اور اللہ کے رسول، دین اسلام، قرآن، اہل بیت، محمد ﷺو آل ؑمحمد ﷺ سب کچھ کو فراموش کرکے بنوامیہ کے حکمرانوں کی قصیدہ خوانی پر امت کو مجبور کیا جانے لگا ہے۔ اور یہی امت اسلامی کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے۔

اتحاد امت کی طرف پلٹنا ہوگا

امت اسلامی کا اتحاد اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کا حکم ہے۔ ان میں اختلاف اور فتنہ و فساد شیطان ملعون اور اسکے آلہ کار انسان نما شیطانوں کی چال ہے۔ آقائے نامدار، مولائے کل، ختم الرسل حضرت محمد مصطفی ﷺ کی خوشی کا باعث بننے کے لیے ہم سبھی کو اتحاد امت، اتحاد بین المسلمین، اتحاد بین المومنین کی طرف پلٹنا ہوگا۔

تقسیم امریکی سازش کا حصہ

وحدت، اخوت ہی ہمیں اور ہم سمیت پوری امت اسلامی کو موجودہ مشکلات سے کامیابی کے ساتھ باہر نکالنے کا واحد ذریعہ ہیں۔ مشکلات بہت زیادہ ہیں اوراب اسلام دشمن قوتوں کی سازشیں محض اقوام کی تقسیم نہیں بلکہ جغرافیائی حدود میں جو پہلے سے قائم قومی ریاستیں ہیں، وہ ان کو تقسیم کرکے نئے ملک بنانے کی تیاریاں کرچکے ہیں۔

Sunnis reject Mufti Muneeb and Mufti Taqi Usmani’s ludicrous sectarian narrative

پاکستان تا ایران تا سعودی عرب، یمن تا شام تا لبنان و عراق، بہت سارے ممالک کی تقسیم امریکی سازش کا حصہ ہے۔ سابق امریکی فوجی افسر رالف پیٹر نے آرمڈ فورسز جرنل میں سال 2006ع میں مجوزہ نئے نقشے کو ایک مقالے میں بیان کیا تھا۔ اسکے بعد سے دیکھ لیں کہ صوبہ بلوچستان کی علیحدگی پسند تحریک تاحال اسی منصوبے پر گامزن نظر آتی ہے۔

 امریکی زایونسٹ بلاک کے مفاد میں

آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین جھڑپیں بھی ان دونوں کے مفاد کی بجائے امریکی زایونسٹ بلاک کے مفاد میں ہے۔ شام اور یمن میں جو کچھ امریکی زایونسٹ بلاک یا انکے اتحادی سعودی عرب اور امارات کررہے ہیں، یہ بھی دشمنوں کے مفادات کی تکمیل کے لیے ہورہا ہے۔

دیگر ممالک کے لیے کیا آپشن چھوڑا ہے

او آئی سی کے پلیٹ فارم کو سعودی عرب اور مارات کے زایونسٹ مفادات کا ذریعہ بنانے کی بجائے اس پلیٹ فارم کو عالم اسلام کے نمائندہ پلیٹ فارم کی حیثیت دینے کی ضرورت ہے۔ ایران، ترکی، پاکستان، ملائیشیاء، قطر کے سربراہان اگر الگ پلیٹ فارم کا سوچنے پر مجبور ہوئے تو ان کو الزام دینے کی بجائے سعودی و اماراتی سربراہان مملکت کو اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے تھا۔ انہوں نے دیگر ممالک کے لیے کیا آپشن چھوڑا ہے۔

محرم اور صفر کے مقدس مہینوں میں سعودی و اماراتی کھیل

اور جو فرقہ پرستانہ منافرت و فتنہ و فساد کے ذریعے محرم اور صفر کے مقدس مہینوں میں سعودی و اماراتی کھیل کھیل رہے تھے، انہیں بھی یاد رکھنا چاہیے کہ مرکر انہیں بھی اللہ کے سامنے جواب دینا ہوگا۔ اسلام کو اللہ نے اپنا دین قرار دیا ہے۔ اسکے فیصلے اللہ خود کرتا ہے۔ اللہ نے اس دین کو محمد مصطفی ﷺ کے ذریعے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔ بلاوجہ صحابہ کے عنوان سے ایک نیا دین بناکر جو کچھ مولوی حضرات نے کیا ہے، نہ تو انہیں اسکا اختیار اللہ نے دیا ہے اور نہ ہی ان صحابہ نے جن کا یہ نام استعمال کررہے ہیں۔ بلکہ ان صحابہ کو بھی اللہ نے یا اللہ کے رسول ﷺ نے یہ اختیار نہیں دیا تھا۔

مشترکات پر اتحاد ایک پائیدار اتحاد ہے

وحدت اسلامی، وحدت مسلمین و مومنین کا منصفانہ فارمولا موجود ہے۔ مشترکات پر متحد ہوجائیں۔ ماضی کی متنازعہ شخصیات کے ایشو کو نہ چھیڑیں۔ دین اللہ کا ہے، دین اللہ کے رسول کا ہے۔ اللہ اور اللہ کا رسول ﷺ پر ہر مسلمان کا اتفاق ہے۔ قرآن سب کا ایک ہی ہے۔ اہل بیت نبوۃ ﷺ سے مودت، عقیدت بھی قدر مشترک ہے۔

Terrorism and extremism in Pakistan cannot end due to these reasons

ام المومنین بی بی خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیہا کی حیثیت امہات المومنین میں مرکزی ہے۔ اسی طرح جناب سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بھی سبھی مومنین و مسلمین کے لیے محترم و مقدس ہستی ہیں۔ مولا امیر المومنین ؑاور حسنینؑ کریمین بھی سبھی کے لیے محترم و مقدس ہیں۔ ان مشترکات پر اتحاد ایک پائیدار اتحاد ہے۔ کیونکہ اس میں کوئی لین دین نہیں کہ تم ہمارے فلاں محترم کو مانو تو ہم تمہارے فلاں محترم کو مانیں۔ یہ تو سبھی کا دعویٰ ہے کہ وہ ان ہستیوں کو مانتے ہیں۔ اس لیے یہی اتحاد سب کے لیے ون ون سچویشن ہوگی۔

علمائے کرام کا کردار زیادہ اہم

ورنہ دشمنان اسلام نے تباہی و بربادی کے جس ایجنڈا پر تیزی سے عمل کرکے دکھایا ہے، یہ سب کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ بلکہ چودہ طبق روشن کرنے کے لیے کافی ہے۔ خاص طور پر علمائے کرام کا کردار زیادہ اہم ہے۔ اگر وہ اتحاد کی بجائے فتنہ و فساد کی طرف اکسائیں گے تو وہ خود بھی اسی کا ایندھن بنیں گے اور خود نقصان اٹھائیں گے۔

دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کردے

امت اسلامی کو متحد کرنے کے لیے سبھی کو اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔ سبھی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ امت اسلامی ایک حقیقت ہے بشرطیکہ یہ متحد و متفق ہو۔ علامہ اقبال نے مشکلات سے نجات کا راز یوں فاش کیا تھا:

قوت عشق سے ہر پست کو بالا کردے
دہر میں اسم محمد ﷺ سے اجالا کردے

عالم اسلام کی مشکلات کا حل اتحاد امت

محمد ابوبکر فاطمی  شیعیت نیوز اسپیشل
Probe into activities of Saudi ambassador in Pakistan demanded

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close