مقالہ جات

کرونا وائرس کے پیچھے امریکہ کا اقتصادی ہدف……..!!

چین کی آبادی کی مناسبت سے یہ کوئی قابل ذکر عدد نہیں، جبکہ خود امریکہ کی آبادی چین کی نسبت بہت کم ہے

شیعت نیوز: کرونا وائرس کے پیچھے امریکہ کا اقتصاد ی ہدف ……..!!،کیا کرونا وائرس واقعی بہت خطرناک اور جان لیوا ہے؟کیا کرونا وائرس کے مریض کی موت یقینی ہے؟پوری دنیا میں اس وائرس کو اتنا بڑھا چڑھا کر کیوں پیش کیا جا رہا ہے؟ان سوالات کے جواب جانئیے اس تحریر میں…..

سال 2017 اور 2018 میں امریکا میں 61000 افراد آنفلوانزا کے وائرس سے فوت ہوئے اور پچھلے سال 2019 میں 10 ہزار امریکی آنفلوانزا کے وائرس سے مر گئے، امریکہ کے رسمی طور پر اعداد و شمار بھی ساتھ ملحق کئے گئے ہیں.جبکہ چین میں اب تک 70000 ہزار افراد کرونا سے متاثر ہوۓ ہیں جن میں سے 23000 افراد صحت یاب ہو کر ہسپتال سے فارغ کردیئے گئے ہیں اور فقط 2400 افراد اس وائرس سے متاثر ہو کر فوت ہوۓ ہیں.

یہ بھی پڑھیں: طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے والا گومل یونیورسٹی شعبہ اسلامیات کا دیوبندی چیئرمین مولوی صلاح الدین گرفتار

چین کی آبادی کی مناسبت سے یہ کوئی قابل ذکر عدد نہیں، جبکہ خود امریکہ کی آبادی چین کی نسبت بہت کم ہے. لیکن وہاں پر لاکھوں افراد کا آنفلوانزا کے وائرس سے مرجانا پوری دنیا کے لئے معمولی بات ہے، اور کسی نے بھی امریکا کے لئے اپنی فلائٹس بند نہیں کیں اور نہ ہی کسی ملک کو جرات ہوئی کہ وہ امریکی برآمدات و درآمدات کو روک دے. جبکہ چین میں فقط 2000 افراد کا فوت ہونا پوری دنیا اور میڈیا کے لیے ایک عالمی مشکل ہے.

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عالمی اور استعماری میڈیا کے اس پروپیگنڈہ کے پیچھے کیا اہداف ہیں؟؟صاف ظاہر ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پوری دنیا کو چین سے لاتعلق کردیں، پوری دنیا کی چین سے درآمدات و برآمدات کو متاثر کیا جاۓ اور اس کی جگہ امریکی و یورپی پروڈکٹس کے لیے راہ ہموار کی جاۓ، چین کے اقتصاد کو نقصان پہنچایا جاۓ.

یہ بھی پڑھیں: جہاد اسلامی فلسطین کی اسرائیلی حکومت کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے پر تاکید

رہبر معظم سید علی خامنہ ای دام ظلہ العالی نے پچھلے دن اپنے درس خارج میں اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ فرمایا کہ ایران میں بھی اس بیماری کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ عوام کو انتخابات میں شرکت سے روکا جاۓ اور اس بہانے عالمی سطح پر یہ عذر پیش کیا جاۓ کہ ایرانی عوام نے انتخابات میں شرکت نہیں کی اور اس نظام سے تنگ آ چکے ہیں، اس نظام سے بیزار ہیں، لیکن ایرانی انقلابی عوام نے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور دشمن کے اس منصوبے کو خاک میں ملا دیا

یہ بھی پڑھیں: تہران میں قائم پاکستانی سفارخانہ زائرین کیلئےہنگامی بنیادوں پر خاطر خواہ انتظامات کرے، علامہ راجہ ناصرعباس

.آخر میں قابل ذکر ہے کہ کرونا ایک غیر جاندار وائرس ہے جو ادھیڑ عمر افراد یا پہلے سے بیمار افراد کے لئے خطرناک ہے اور 80 سال سے زائد افراد جو اس بیماری کا شکار ہوں انکے لئے زیادہ خطرناک ہے. جبکہ نوجوان افراد یا جن کا جسمانی قوت مدافعت کا نظام بہتر ہے ہو سکتا ہے وہ کرونا کی بیماری میں مبتلا ہوں اور انہیں پتہ بھی نہ ہو.البتہ ضروری ہے کہ احتیاطی تدابیر بھی اختیار کی جائیں کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے.

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close