مقالہ جات

‼ امریکہ طالبان۔۔۔ کونسا اتفاق؟‼

اس تقریب میں امریکی وزیر خارجہ پمپیو کے علاوہ دنیا کے ستر ممالک کے اہم نمائندے موجود تھے

شیعت نیوز: 🔷 گیارہ مرتبہ مذاکرات اور مختلف بحثوں کے بعد آخر کار امریکہ اور افغان طالبان مذاکرات کے حتمی نتائج تک پہنچ گئے۔ قطر کے دار الحکومت دوحہ میں اس اتفاق پر امریکہ کی طرف سے زلمی خلیل زاد اور طالبان کی طرف سے ملا عبدالغنی برادر نے دستخط کیے۔ اس تقریب میں امریکی وزیر خارجہ پمپیو کے علاوہ دنیا کے ستر ممالک کے اہم نمائندے موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیں: رہنما شیعہ علماءکونسل علامہ عارف واحدی کی صدرمملکت عارف علوی سے ملاقات، زائرین کو درپیش مشکلات پر گفتگو

🔷 قرارداد کے اندر لکھا گیا ہے کہ طالبان، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف افغانستان کی سرزمین استعمال نہیں کر سکتے۔ آنے والے 135 دنوں میں افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم ہو کر صرف 8600 تک رہ جائے گی۔ امریکہ طالبان کے 5000 قیدیوں کو 10 مارچ تک آزاد کرے گا۔ اس کے علاوہ طالبان کے تمام اہم افراد کے نام امریکی پابندیوں سے نکالنے کی شق بھی اس صلح نامے میں موجود ہے۔

⁉ لیکن یہاں سوال یہ ہے کہ

:🔷 کیا آج تک امریکہ اپنے کسے عہد وپیمان کا پابند رہا ہے؟ جو اب کی بار وہ پابند رہے گا؟

🔷 اس صلح نامے پر افغانستان کی موجودہ اور قانونی حکومت کے کوئی دستخط نہیں اور نہ ہی اس کا اس لحاظ سے کوئی کردار ہے۔ یہ اس "صدی کی ڈیل” کی مانند ہے جسے طے کرنے میں سارے بیگانے شامل تھے

یہ بھی پڑھیں: کرونا وائرس، زائرین کے خلاف پروپگینڈا مسلکی تفریق کا بھی باعث بن رہاہے، علامہ رضی جعفر

۔🔷 اس صلح نامے میں امریکی فورسز کے افغانستان سے نکلنے کے لیے ٹائم فریم مشخص نہیں کیا گیا۔ اس لحاظ سے کوئی شق نہیں لکھی گئی۔ اگرچہ دستخط کے بعد طالبان نے کہا ہے کہ امریکہ نے انہیں یقین دلایا ہے وہ 14 مہینوں میں افغانستان سے چلا جائے گا۔ یعنی صرف زبانی جمع خرچ!

🔷 اس صلح نامے کا سب سے زیادہ فائدہ ٹرمپ کو اگلے الیکشن میں ہوگا۔ اس سے پہلے امریکہ مکتوب صلح ناموں کے ٹکڑے کرتا رہا ہے، اس کے لیے اس صلح نامے کی بھی کوئی اہمیت نہیں، خاص طور پر جب بہت سی باتیں مکتوب کرنے کی بجائے صرف زبانی کلامی بنیادوں پر طے ہوئی ہوں

یہ بھی پڑھیں: مسلمانوں پرمظالم، ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کی مودی سرکار پر تنقید، بھارتی حکومت سیخ پا

۔🔷 لیکن اصل نکتہ یہاں ہے کہ وہ طالبان جو ایک طرف اسلامی خلافت کا نعرہ بلند کرتے رہے ہیں آج انہوں نے بتایا نہیں کہ یہ کونسی اسلامی خلافت ہے جس کے حاکموں (طالبان) نے وعدہ کیا ہے کہ وہ اسلام کے عظیم ترین دشمن امریکہ اور اس کے اتحادیوں بشمول اسرائیل کے خلاف اب کے بعد کوئی عملی قدم نہیں اٹھائے گا۔ (اس قرارداد کے متن کے مطابق افغانستان کی سرزمین امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔)

یہ بھی پڑھیں: احتجاج رنگ لےآیا، مشہد میں پاکستانی قونصلیٹ کی زائرین کو رہائش اورکھانے کی سہولیات کی فراہمی

🔷 اگر بالفرض طالبان اس صلح نامے کا پابند رہتے ہیں تب ان کی حیثیت ایک سیاسی پارٹی یا تحریک سے زیادہ نہیں ہوگی۔ التبہ امریکہ کی منظور نظر حکومت کے اندر ممکن ہے طالبان کو بھی کچھ حصہ مل جائے۔ ایسے میں طالبان کی حیثیت ایک کٹھ پتلی کی ہوگی جو افغانستان کے اندر امریکی مفادات کا تحفظ کر رہی ہوگی۔

تحریر: حسین شریعتمداری
ترجمہ : حسینی

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close