مقالہ جات

ایران بمقابلہ امریکہ

مذکورہ کالم کو پڑھ کر انتہائی تشویش ہوئی ہے کہ ہمارے ملک کے بعض لوگ کفار کے مقابلے میں بھی اپنے برادر ہمسایہ ملک کے خلاف اور کفار کی خدمت کرنے کو فخر سمجھتے ہیں

شیعت نیوز: آج بروز 10 جنوری کو روزنامہ ایکسپریس میں علی احمد ڈھلوں کا کالم (کیا تیسری عالمی جنگ کا امکان ہے ؟ ) پڑھ کر ضروری سمجھا ہے کہ انکی ناقص اطلاعات کی تلافی کی جاۓ ۔

مذکورہ کالم کو پڑھ کر انتہائی تشویش ہوئی ہے کہ ہمارے ملک کے بعض لوگ کفار کے مقابلے میں بھی اپنے برادر ہمسایہ ملک کے خلاف اور کفار کی خدمت کرنے کو فخر سمجھتے ہیں عین اسی طرح جیسے بلوچستان کے پرانے قبائلی نظام میں کسی بھی عام بلوچ آدمی کی یہ خواہش ہوتی تھی کہ اسکا بیٹا یا بیٹی قبیلے کے وڈیرے یا سردار کے گھر میں نوکر ہو ۔ مسلمان ممالک میں اتنی ظرفیت کیوں نہیں ہےکہ وہ مسلمان ہونے کے باوجود ایک دوسرے کے مخالف ہیں جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے پوچھا گیا کہ آپ ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے کے لئے آمادہ ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہر گز نہیں تو صحافی نے دوبارہ سوال کیا کہ کیوں ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ایران امام مہدی کے ظہور کے لئے کام کر رہا ہے اور پوری دنیا پر حکومت کا نظریہ رکھتا ہے لہذا ہم ان سے مذاکرات نہیں کر سکتے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ ایران اور سعودی عرب متحدہوجائیں ، علامہ اقتدار نقوی

دوسری طرف تمام شیعہ سنی مسلمانوں کا مسلمہ عقیدہ ہے کہ آخری زمانے میں امام مہدی کا ظہور ہو گا اور وہ دنیا میں عدل وانصاف نافذ کریں گے ۔ صرف شیعہ و سنی برادران میں اس بات کا اختلاف ہےکہ شیعہ کے مطابق امام مہدی کی ولادت ہو چکی ہے اور ستر سالہ غیبت صغری کی زندگی بسر کرنے کے بعد مصلحت خدا کے تحت پردہ غیبت کبری میں چلے گئے ہیں اور خدا کے حکم سے دوبارہ ظہور کریں گے جبکہ اہلسنت برادران کے مطابق امام مہدی ابھی پیدا نہیں ہوۓ بلکہ آخری زمانے میں پیدا ہوں گے ۔ لیکن امام مہدی اور انکی حکومت پہ سب کا متفقہ عقیدہ ہے ۔ یہ غیبت کیا چیز یہ بھی ایک قرآنی فلسفہ ہے یہاں بیان کرنے سے بات مزید طویل ہو جاۓ گی اور قرآن میں حضرت موسی سمیت چند انبیا کی غیبت ذکر ہوئی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیرہ اسماعیل خان ، شیعہ تنظیمات کی قاسم سلیمانی کی شہادت پر امریکا کے خلاف مشترکہ احتجاجی ریلی

لہذا ایران سے بعض نام نہاد اسلامی ممالک کی دشمنی نظریاتی ہے اور بعض کی دشمنی اسٹرٹیجیک نوعیت کی ہے یعنی اگر ایران اپنی سمندری حدود تنگہ ھرمز کو بند کر دے تو قطر اور دبئی کے تیل کے عالمی منڈی کو ترسیل بند ہو جاۓ گی اور اسی ایران کی سمندری حدود سے ہی قطر اور دبئی کا ستر فیصد تیل یورپ کو جاتا ہے لہذا ایران چاہے تو یورپ اور قطر اور دبئی کے اقتصاد کو تباہ کر سکتا ہے دوسری طرف سعودی عرب کا تیل یمن کی حدود باب المُندب سے گزر کا عالمی منڈی کو سپلائی ہوتا ہے اگر انصار اللہ یمن کو ایران ایک اشارہ کرے تو یمنی باب المندب کو بند کرکے سعودی معشیت کو تباہ کر سکتے ہیں اور سعودیہ کا ایک لیٹر تیل بھی عالمی منڈی کو نہیں جا سکتا ہے۔ چند سال پہلے انصار اللہ یمن نے تجربے کے طور پر باب المندب کو دو دن کے لئے بند کیا بھی تھا جس سے بلافاصلہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی تھیں ۔ ایران کے امریکی فوجیوں چھاونیوں پر حملے کے بعد اب تو عرب ممالک کی ایران سے دشمنی کے علاوہ ڈر میں بھی اضافہ ہو گیا ہے ۔ جہاں تک غیر اسلامی ممالک کا تعلق ہے تو انکی دشمنی ایران کا انکے سامنے تسلیم نہ ہونے کی وجہ سے ہے ۔

یہ بھی پڑھیں: صد رپاکستان کی ایرانی سفیر سے ملاقات ، قاسم سلیمانی کی شہادت اور تہران میں طیارہ حادثہ پر اظہار تعزیت

جہاں برابری ، قومی عظمتِ نفس ،کرامتِ انسانی کے تقاضوں کے ساتھ تعقات ، ظلم کے خلاف کھڑے ہونا اور قومی غیرت و وقار کی سطح پہ بات ہو تو ایران کے ان ممالک حتی غیر اسلامی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں مثلا چین ،روس ، شمالی کوریا ، جاپان وغیرہ کیونکہ یہ ایران کے ساتھ ایران کے وقار اور عزت و سربلندی کے مدنظر رکھتے ہوۓ برابری کی سطح پہ بات کرتے ہیں ۔ امریکہ کا رویہ برابری کا نہیں بلکہ زور گوئی اور تسلط پسندی کا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ہر ملک میرے ماتحت ہے ۔ اس وقت اسلامی ممالک میں سے فقط ایران ہی ہے جو گذشتہ چالیس سال سے امریکہ کے سامنے ایک حریف کے طور پر موجود ہے ۔ جنگیں ٹیکنالوجی کی بنیاد پہ نہیں جیتی جاتی ہیں اگر ایسا ہوتا تو ایران عراق آٹھ سالہ جنگ کہ جس جنگ کو امریکہ نے صدام جیسے ڈکٹیر کے ذریعے ایران پر مسلط کیا تھا ، دنیا کے 80 ملکوں کی ٹیکنالوجی ، پیسہ اور حمایت صدام کے پاس ہونے کے باوجود صدام جنگ ہار گیا جبکہ ایران میں اُس وقت نیا نیا انقلاب آیا ہوا تھا اور حکومت ابھی تشکیل کے مراحل میں تھی۔ یا ایک اور شناختہ شدہ مثال یہ ہے کہ جنگ بدر میں 313 مسلمانوں کے مقابلے میں کفار کی تعداد ہزاروں میں تھی اور مسلمانوں کی نسبت کفار کے پاس اسلحہ بھی زیادہ تھا ۔

یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کا مقابلہ کرنا عین جہاد ہے۔

یعنی اول یہ کہ 313مسلمان سارے جنگجو نہیں تھے بلکہ بعض کو سہارا دے میدان جنگ تک لایا گیا اور بعض اصلا جنگی مہارتوں سے واقف نہیں تھے یعنی صرف تعداد 313 تھی لیکن یہ 313 سارے جنگجو نہیں تھے اور اسلحے کی یہ صورتحال تھی کہ ہر پندرہ بندوں کے لئے ایک نیزہ اور ہر پینتیس لوگوں کے لئےایک تلوار اور اسی طرح گھوڑوں کی تعداد بھی بہت کم اور کھانے پینے کی اشیاء کی قلت اور دوسری طرف کفار کے پاس ہر چیز وافر موجود تھی یہاں تک کہ وہ اپنے ساتھ رقاصہ عورتوں کو بھی لاۓ تھے جن کی سرپرست جگر خوار ہندہ تھی کہ وہ رقص کرکے اپنے فوجیوں کا حوصلہ بڑھائیں یعنی اس تیاری کے ساتھ آۓ کہ گویا جنگ جیتی جتائی ہے لیکن جنگ کا نتیجہ کیا نکلا ؟ آپ سب جانتے ہیں کہ دشمن کے مقابلے میں اس وقت کی ٹیکنالوجی کی کمی کے باوجود مسلمان جیت گئے ۔ دراصل ہم جہانِ سوم کے ممالک میں رہنے والے لوگ مغربی ٹیکنالوجی سے اتنا مرعوب ہو گئے ہیں کہ ہمیں لگتا ہے کہ ہم نے امریکہ و اسرائیل کے مقابلے میں ایک بات کی تو وہ ہمیں کچل کے رکھ دیں گے کیونکہ ہمارا خدا پہ ایمان کمزور ہے ۔ علامہ اقبال نے کہا تھا کہ

اگر ہوتا وہ مجذوب ِ فرنگی اِس زمانے میں
تو اقبال اُس کو سمجھاتا مقام ِ کبریا کیا ہے

اس کے ساتھ ساتھ مڈل ایسٹ میں جو بڑا فتنہ ہے وہ اسرائیل کی شکل میں ہے جس کے بارے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی فرمایا تھا کہ اسرائیل ایک غاصبانہ ریاست اور لاکھوں مسلمان فلسطینیوں کی قاتل ہے اور ہم اس کے وجود کو کبھی بھی تسلیم نہیں کریں گے ۔ اس اسرائیل کے وجود کی بقا کے لئے بعض اسلامی ممالک پیش پیش ہیں ان ممالک کے خلاف پاکستان کا موقف کیوں واضح نہیں ہے ؟ محمد بن سلمان سے جب پوچھا گیا کہ آپ اسرائیل پہ حملہ کیوں نہیں کرتے جو یہودی اور مسلمانوں کے قاتل ہیں تو انہوں نے کہا کہ جس دن سارا اسرائیل شیعہ ہو گیا تو اس دن ہم اس پہ حملہ کریں گے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کاکہا ہم ایران اسرائیل جنگ کی صورت میں اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہوں گے ۔ اسرائیل کے حوالے سے سعودی عرب کی پالیسی پر پاکستان کا کیا موقف ہے ؟

یہ بھی پڑھیں: ایک بار پھر عراق و شام کی سرحد کے قریب عراقی رضاکار فورس الحشد الشعبی پر ہوائی حملہ

کشمیر پر ایران ، شام ، ترکی ، ملایشیا کہ جنہوں نے کھل کر کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت کی ۔ انکے علاوہ باقی اسلامی و عرب ممالک کے بارے پاکستان کا کیا موقف ہے ؟ کہ انکی منافقت کی وجہ سے پاکستان اقوام متحدہ میں کشمیر کے حق میں ایک قرار داد بھی منظور نہیں کروا سکا ہے ـ پاکستان میں سیلاب ہو یا زلزلہ ہو ایران نے اپنی طرف سے مدد اور سامان کے جہازوں کو براہ راست سیلاب زدگان اور زلزلہ زدگان علاقوں میں حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر تقسیم کیا جبکہ سیلاب زدگان کی مدد کے بہانے امریکہ کے وہ جہاز جو اسلحہ سے لیس ہو کر پاکستان میں آۓ اور انکو صرف امریکی سفارت خانوں میں unload کر دیا گیا اور بعد میں وہی اسلحہ مسلح کالعدم جماعتوں کو مہیا کیا گیا اس پر پاکستان کا کیا موقف ہے ؟

یہ بھی پڑھیں: ایم کیوایم کے وفدکی جعفریہ الائنس کے رہنماؤں سے قاسم سلیمانی کی شہادت پر تعزیت

پاکستان میں بار بار یہ بحث چھیڑی جاتی ہے کہ 65اور 71 کی جنگ میں ایران نے انڈیا کی مدد کی اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کروائی تو میری عرض یہ ہے کہ اس وقت ایران میں شاہ ایران کا شہنشاہی نظام نافذ تھا جو کہ امریکہ کا درجہ اول کا نوکر تھا ۔ اے کاش کہ پاکستانی حکومت اس وقت امریکہ سے کہتی کہ تمہارا نوکر ایران ہمارے خلاف انڈیا کو سرزمین مہیا کر رہا ہے اسکو روکو لیکن اس وقت امریکہ کے خلاف پاکستان کا کیا موقف تھا ؟ ہم جس ایران اور انقلاب کی حمایت کرتے ہیں وہ 11 فروری 1979 کو شہنشاہ ایران کا تختہ الٹنے سے وقوع پذیر ہوا ہے اور اسکے بعد سے اب تک پاکستان پر ایسی مشکل نہیں آئی کہ ایران پاکستانی مفادات کے خلاف پاکستان کے دشمن کے ساتھ کھڑا ہو ۔ جبکہ افغانستان میں پاکستان کی امریکہ کی ایماء پر مداخلت کے بارے آج خود پاکستانی حکمران و فوج تسلیم کر رہی ہے کہ یہ پاکستان کی ایک بڑی اسٹرٹیجیک غلطی تھی ۔ کیا ایران امریکہ کے مقابلے میں بقول شخصے 13 گنا کمزور ہے ؟ ان اوپر والے سب سوالوں کے جواب میرے پاس موجود ہیں اور آپ کے لاشعور میں بھی موجود ہیں لیکن خواہش ہے کہ آپ خود مطالب کو تلاش کرکے کسی نتیجے تک پہنچیں ۔ ایران بمقابلہ امریکہ درحقیقت وہ ابدی جنگ ہے جس کے بارے علامہ اقبال نے فرمایا تھا کہ

نہ ستیز ہِ گاہ جہاں نئی نہ حریف ِ پنجہ فگن نئے ،
وہی فطرت ِ اسد الہی وہی مرحبی وہی انتری

ستیز جنگ کو کہتے ہیں اقبال نے فرمایا کہ نہ یہ جنگ کوئی نئی جنگ ہے اور نہ ہی حریفِ پنجہ فگن نئے ہیں ۔ حریفِ پنجہ فگن یعنی وہ دشمن کہ جس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی جاۓ ۔ بلکہ ایک طرف اسدُالہی طاقت ہے اور دوسری طرف مرحبی و انتری طاقت ہے جو ہر زمانے میں موجود ہے ۔

ایران کے سپاہ قدس کے جنرل کی شہادت پر ایران کا ردعمل واضح ہے اور دوسری جنگ عظیم کے بعد ایران وہ واحد ملک ہے کہ جس نے براہ راست امریکہ کی فوجی چھاونیوں پر حملہ کیا ہے ۔ ایران کے جنرل حاجی زادہ کے بقول کہ پہلے ہم نے امریکہ کا ڈیفنس سسٹم ناکارہ بنایا اور پھر فورا حملہ کر دیا یعنی امریکی ٹیکنالوجی کہاں گئی کہ اپنا دفاع بھی نہ کر سکی ۔ یہ حملہ درحقیقت امریکہ کے مڈل ایسٹ میں تسلط ، امریکی فوج کے غرور ، اسرائیل کی رجزخوانی اور بعض عرب ممالک کے امریکی فوج پر اعتماد کے اوپر حملہ ہے ۔ اور بقول آیت اللہ خامنہ ای کے کہ یہ فقط پہلا تھپڑ مارا ہے انتقام یہ ہو گا کہ ہم خطے سے امریکہ کو باہر نکالیں گے اور میرے ذاتی اندازے کے مطابق آیندہ ایک یا دو سال تک خطے میں امریکی وجود نہیں ہو گا ۔ اور آیندہ دنوں میں عراق میں امریکی فوج کے خلاف بھرپور کارروائیاں ہوں گی ۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی میڈیا چینلز جنرل قاسم سلیمانی کو شہید کہہ کر پکاریں، سید ناصر حسین شاہ

ایران نے واضح پیغام دیا ہے کہ امریکہ سے جوابی حملے کی صورت میں اسرائیل کی نابودی یقینی ہے جس کو حزب اللہ لبنان اور ایران اور مقاومتی گروہ چند لمحوں میں انجام دیں گے لیکن ایرانی میزائل حملوں کے بعد امریکہ کے صدر کی بوکھلائی ہوئی پریس کانفرنس اور پینٹاگون اور سوئٹرز لینڈ کے طرف سے امریکی ایما پر ایران سے مزید جوابی کاروائی نہ کرنے کے (تَرلے ) اس بات کی علامت ہیں کہ امریکی غبارے سے ہوا نکل گئی ہے ۔ امام خمینی نے بہت پہلے فرمایا تھا کہ امریکہ کی مثال اُس کُتے کی طرح ہے کہ اگر اس کے آگے لگ کر بھاگو گے تو وہ تمہارا پیچھا کرے گا اور اگر اسکے سامنے کھڑے ہو کر استقامت دکھائو گے تو وہ دم دبا کر بھاگ جاۓ گا ۔ میں نہیں چاہتا کہ ایران کی میزائل ٹیکنالوجی کی یہاں وضاحت کروں لیکن اتنا ضرور اشارہ کروں گا کہ کسی بھی ممکنہ جنگ کی صورت میں ایران اتنی صلاحیت رکھتا ہے کہ خود امریکہ کے اندر حملے انجام دے سکتا ہے ۔ آخر میں یہ دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں استعماری طاقتوں سے نجات دے اورہمارے وجود کو اسلام کے لئے کارآمد ثابت کرے ۔

تحریر : حسن رضا نقوی
تہران یونیورسٹی ۔ ایران

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close