مقبوضہ فلسطین

مغربی کنارے کے اسرائیل سے الحاق کے سازشی منصوبے کی تفصیلات

شیعت نیوز : اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے ’’ کے اے این‘‘ نے اپنی رپورٹ میں غرب اردن پر اسرائیلی ریاست کے قبضے اور الحاق کے نام نہاد سازشی منصوبے کے ابتدائی نقشے کی تفصیلات جاری کی ہیں۔

اس منصوبے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے تجویز کردہ نکات میں تبدیلی کی گئی ہے۔ اس سازشی منصوبے میں ترمیم کے بعد غرب اردن کے انتہائی اندر گہرائی میں واقع 20 یہودی کالونیوں کو اسرائیل کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فارمولے میں ان بیس یہودی کالونیوں کےبارے میں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا۔

صدی کی ڈیل منصوبے میں فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اراضی کے تبادلے کی تجویز دی گئی ہے اور بحر مردار کے مشرق میں صحرائی علاقہ فلسطینی اتھارٹی کو دینے کی تجویز شامل ہے۔ منصوبے کے تحت غرب اردن کی تمام شاہراؤں کا کنٹرول اسرائیل کے پاس ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : یمنی فوج کا فوجی آپریشن، صوبہ مآرب اور البیضاء میں 400 مربع کلومیٹر کا علاقہ آزاد

اسی سیاق میں امریکی انتظامیہ نے اسرائیل پر فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ اراضی کے تبادلے پر زور دیا ہے۔ اس منصوبے میں سیکٹر ’’سی‘‘  کی اراضی کو سیکٹر بی میں شامل کرنے کی تجویز شامل ہے۔

منگل کے روز اسرائیلی وزیر دفاع بین گینٹز نے ایک بیان میں کہا کہ یکم جولائی سے غرب اردن کے الحاق کے پروگرام پرعمل درآمد شروع نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے یقین ہے کہ سورج مشرق سے طلو اور مغرب میں غروب ہوتا ہے۔

خیال رہے کہ بین گینٹز اور وزیراعظم نیتن  یاھو کے درمیان فلسطینی اراضی کے اسرائیل سے الحاق کے منصوبے پر اتفاق ہوچکا ہے۔

تاہم  بینی گینٹز کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا منصوبہ اسرائیل کے سیاسی اور سیکیورٹی مفادات کے مطابق ہے۔ اس سازشی منصوبے کے ذریعے اسرائیلی ریاست کو تحفظ دیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس منصوبے کو عملی شکل دینے اور اس کے لیے عالمی برادری کی حمایت کے حصول کی کوشش پر زور دیتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close