اہم ترین خبریںپاکستان

کمسن لاپتہ شیعہ جوان فضل عباس کون ہے؟

شیعت نیوز:جعفرطیار سوسائٹی کا ایک پاک جوان جو دین کا عاشق انسانوں کا ہمدرد بہتریں قاری قرآن اور حافظ قرآن ہے، گذشتہ رات ایک نمازی نے سوشل میڈیا پر فضل عباس کے لاپتہ ہونے کی خبر دیکھی تو بہت رنجیدہ ہوئے کہنے لگے یہ بچہ رمضان المبارک میں ظہرین کی نماز کے بعد قرآن پڑھا کرتا تھا، اسے کیوں لاپتہ کردیا گیا؟

فضل عباس جسکی عمر ابھی گذشتہ جون میں 18 سال ہوئی ہے اپنی تعلیمی سرگرمیاں میں بھی نمایاںاور ٹلینٹ سے بھرپور تھا جسے سرکاری اداروں نے لاپتہ کردیا ، میرے حساب سے جن اداراوں نے اسے لاپتہ کیا انہیں شرم آنا چاہئیے۔

ملک کو جب کورونا کی مشکل کا سامنا تھا لاک ڈان لگ گیا تھا سب اپنے گھروں میں انجوائے کررہے تھے تو فضل عباس اُن کم جوانوں میں سے تھا جو کرونا جیسی مشکل اور بیماری کے محاذ پر فرنٹ لائن کا سپاہی بن کر پاکستان کو کورونا سے پاک بنانے کے عظم کے ساتھ اس وباء سے جنگ کررہا تھا، جب لوگ کورونا کے مریض سے دور بھاگ رہے تھے فضل عباس کورونا سے مرنے والوں کے غسل و کفن کا اہتمام کرنے لئے اپنی جان کی بازی لگا کر انسانیت اور پاکستان کی خدمت کررہا تھا، یہی سوچ کر حیران ہوں کہ ایسے جوان بھی اگر ملکی ادارے کی جانب سے لاپتہ کردیئے جائیں تو پھر کون مشکلات میں آگے بڑھ کر ملک و قوم کی خدمت کریگا؟

کیا ایسے انسان دوست کمسن جوان کو لاپتہ کرکے اسکے کرئیر کو تباہ کرنا ملکی مفاد میں ہے ؟

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close