کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشل

ایرانی تیل بردار بحری جہاز پر برطانیہ نے قبضہ کیوں کیا ہے؟؟

تحریر : عمار حیدری / شیعت نیوز اسپیشل یہ خبر تو سبھی سن چکے ہوں گے کہ جبرالٹر کے علاقے میں برطانیہ کی شاہی بحریہ (رائل نیوی) نے ایرانی تیل بردار بحری جہاز (آئل ٹینکر) کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے. لیکن یہ بھی جان لیجیے کہ جبرالٹرایک متنازعہ ساحلی جزیرہ ہے۔ یہ اسپین (ہسپانیہ) کا علاقہ ہے جو ایک مسلمان جرنیل طارق بن زیاد نے فتح کیا تھا. اسلامی تاریخ میں ہسپانیہ کو اندلس بھی کہا جاتا ہے اور اس علاقے جبرالٹر کو مسلمان و عرب جبل الطارق بھی کہتے ہیں۔

جبرالٹر کے وزیر اعلیٰ فابیئن پکارڈو کے مطابق ایرانی گریس ون سپر ٹینکر کو اس لئے تحویل میں لیا گیا ہے کہ وہ خام تیل لے کر شام کی بنیاس آئل ریفائنری جارہا تھا جس پر یورپی یونین کی پابندی عائد ہے. یادرہے کہ یورپی یونین نے شام حکومت اور اداروں پر سال 2011ع سے پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔ البتہ اسپین کے قائم مقام وزیر خارجہ جوزف بوریل کا کہنا ہے کہ امریکا کے کہنے پر برطانوی رائل نیوی نے ایرانی تیل بردار جہاز پر قبضہ کیاہے۔

جبرالٹر اسپین کے جنوبی ساحل پر واقع ہے۔ آبنائے جبل الطارق بحیرہ روم (بحر متوسط یا میدیترانین سمندر) کو بحر اوقیانوس سے ملاتی ہے۔جس طرح خلیج فارس میں ایک طرف ایران ہے اور سمندر کے دوسری طرف خلیجی عرب ممالک واقع ہیں، اسی طرح اسپین کے سامنے جو سمندر ہے اس کے دسری طرف مراکش ہے، مراکش کے ساتھ الجزائر، اسکے ساتھ تیونس، اسکے ساتھ لبیا ہے۔ یعنی یہ جبرالٹر یا جبل الطارق کے سامنے سمندر کے دوسرے کنارے پر مراکش نامی عرب مسلمان ملک واقع ہے۔ اور جبرالٹر کا شام کے ساحلی شہر بنیاس سے سمندری فاصلہ کم از کم نو سے دن تک طے کیا جاسکتا ہے کیونکہ دوہزارناٹیکل میل سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔

اسپین کے قائم مقام وزیر خارجہ جوزف بوریل کا کہنا ہے کہ امریکا کے کہنے پر برطانوی رائل نیوی نے ایرانی تیل بردار بحری جہاز پر قبضہ کیاہے۔

امریکا اور برطانیہ نے ایرانی تیل بردار بحری جہاز کو جبرالٹر میں ہی کیوں پکڑا؟؟

امریکا اور برطانیہ نے ایرانی تیل بردار بحری جہاز کو جبرالٹر میں ہی کیوں پکڑا؟؟ دوسرا، اس غیر قانونی و غیر اخلاقی حرکت جسے بحری قزاقی کہنازیادہ مناسب ہوگا، اس کے لئے یورپی یونین کی پابندیوں کو سبب کے طو رپر کیوں بیان کیا گیا؟ ان دو پہلوؤں پر غور کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ بھی ایک سازشی منصوبہ ہے جس کے ذریعے امریکی اتحاد بیک وقت ایک سے زائد اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے۔

جبرالٹر ایک متنازعہ علاقہ

جبرالٹر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور اسپین حکومت کے مطابق یہ اس کا حصہ ہے جو کہ جغرافیائی لحاظ سے اسی کے ساتھ ہے اور برطانیہ تو اٹھارہویں صدی کے دوسرے عشرے میں قابض ہوا تھا۔برطانوی حکومت اس کو اوورسیز علاقہ کہتی ہے، پہلے اسے کراؤن کالونی کہا جاتا تھا۔ اب جب بریگزٹ کے ذریعے برطانیہ یورپی یونین سے الگ ہورہا ہے تو جبرالٹر کا یہ علاقہ بھی برطانیہ کو خالی کرنا پڑے گااور یہ علاقہ یورپی یونین کے رکن ملک اسپین کو ملنے کے امکانات ہیں۔ یعنی برطانیہ جاتے جاتے بھی یورپی یونین کو ایران کے خلاف فریق بنانے کی امریکی سازش میں سہولت کار کا کردار ادا کررہا ہے۔

ایران نیوکلیئر ڈیل

اس وقت برطانیہ خود بھی اور اسکے ساتھ فرانس اور جرمنی ایران نیوکلیئر ڈیل کے فریق کی حیثیت سے اس معاہدے میں اپنے حصے کی ذمے داری کی ادائیگی کے پابند ہیں۔ امریکا کی اس ڈیل سے دستبرداری کے بعد وہ دونوں طرف سے دباؤ میں ہیں۔ امریکا کو ناراض کرتے ہیں تو نیٹو اتحاد سمیت پورا عالمی نظام جس میں مغربی بلاک حاوی ہے، اس کی حیثیت کمزور ہوتی ہے اور اگر ایران انکی جانب سے معاہدے کی خلاف ورزی پر رد عمل دکھاتے ہوئے نیوکلیئر ڈیل پر اپنے حصے کے کام کو انجام دینے سے معذرت کرلیتا ہے تو اس خطے میں مغربی بلاک کے سہولت کار حکمران اور خاص طور پر جعلی ریاست اسرائیل خود کو غیر محفوظ تصور کرتا ہے۔

لہٰذا ایران کے خلاف برطانیہ کی بحری قزاقی کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ ایران پر دباؤ بڑھ جائے اور ایران یکطرفہ طور پر نیوکلیئر ڈیل پر کاربند رہے۔ اس طرح ایران کو کوئی ریلیف نہ دینا تاکہ امریکی اسرائیلی بلاک بھی راضی رہے. برطانیہ ایک اور مرتبہ امریکی سہولت کار بنا ہے جبکہ امریکا خود زایونسٹ لابی کا ایک ادنیٰ غلام ہے۔

جبرالٹر کا انتخاب

اس لئے جبرالٹر کا انتخاب کیا گیا ہے اور یورپی یونین کی پابندیوں کو جواز کے طور پر پیش کیا جارہا ہے۔ قانونی لحاظ سے یورپی یونین کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ بین الاقوامی سمندر میں کسی بھی جہاز کو صرف اس وجہ سے پکڑ لے کہ وہ خام تیل لے کر ایسے ملک جا رہا ہے جس پر یورپی یونین کی پابندی ہے۔ دنیا میں صرف اقوام متحدہ کی سلامتی کاؤنسل کی بائنڈنگ پابندیوں کے تحت ایسا کیا جاسکتا ہے۔ ایران کے خام تیل کی فروخت پر اقوام متحدہ کی سلامتی کاؤنسل نے ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی ہے۔

ویسے تو پورے یورپ میں بحیثیت یورپی یونین بھی اتنا دم خم نہیں ہے کہ وہ امریکا کی حکم عدولی کرسکے لیکن تاحال برطانیہ اور فرانس ہی ٹرمپ حکومت کے زیادہ وفادار اور فعال سہولت کار بنے نظر آرہے ہیں۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یورپی یونین کی طرف سے انکے تین بڑے ممالک یعنی برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ای تھری کے عنوان سے ایران نیوکلیئر ڈیل یا مشترکہ جامع منصوبہ عمل (جے سی پی او) پر دستخط کئے ہیں۔ انکے ساتھ دیگر تھری یعنی تین ممالک میں روس اور چین تاحال اس معاہدے کے فریق ہیں جبکہ صرف امریکا یکطرفہ دستبردارہوا ہے۔

لہٰذا ایران کے خلاف برطانیہ کی یہ بحری قزاقی بظاہر یورپی یونین پر جو اخلاقی دباؤ ہے یا ایرانی دباؤ ہے، اس کوبرعکس کرنے کی ایک کوشش لگتی ہے یعنی یہ کہ ایران پر یورپی یونین کا دباؤ بڑھ جائے اور ایران یکطرفہ طور پر نیوکلیئر ڈیل پر کاربند رہے۔ اس طرح ایران کو کوئی ریلیف نہ دینا تاکہ امریکی اسرائیلی بلاک بھی راضی رہے، یہ اس سارے منصوبہ کا بنیادی ہدف ہے۔برطانیہ کھل کر ایک اور مرتبہ امریکی سہولت کار بنا ہے جبکہ امریکا خود زایونسٹ لابی کا ایک ادنیٰ غلام بن کر رہ گیا ہے۔اور ان سب کی نظر میں ایران کا واحد جرم یہی ہے کہ وہ اسرائیل کو جعلی ریاست قرار دے کر پورے فلسطین کی مکمل آزادی کی حمایت کرتا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

ایک تبصرہ

Back to top button
Close