یمن

یمن میں سعودی اتحاد کے حملے بھی، امدادی اشیاء اور ایندھن سے محرومی بھی

شیعت نیوز: یمن کی الحدیدہ بندرگاہ کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ سعودی اتحاد نے یمنی عوام کے لیے امدادی اشیاء اور ایندھن لانے والے کم سے کم بارہ بحری جہازوں کو روک رکھا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جن جہازوں کو روکا گیا ہے ان میں مجموعی طور پر پانچ لاکھ ٹن پیٹرول اور ڈیزل، آٹھ ہزار ٹن گیس، دس ہزار ٹن آٹا اور نو ہزار ٹن چاول لدا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سعودی اتحاد نے یمن جانے والے ان بحری جہازوں کو سعودی عرب کی بندرگاہ جیزان منتقل کردیا ہے۔

سعودی عرب اور اس کے جنگی اتحادیوں نے پچھلے پانج برس سے مغربی ایشیا کے غریب عرب اور اسلامی ملک یمن کے خلاف جنگ اور وحشیانہ حملوں کے علاوہ اس ملک کا زمینی سمندری اور فضائی محاصرہ بھی کر رکھا ہے اور وہاں امدادی اشیاء ، دوائیں اور ایندھن بھی نہیں پہنچنے دے رہے۔ انسانی امورمیں اقوام متحدہ کے انڈر سیکریٹری مارک لوکاک نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا تھا کہ یمن کو تاریخ کے بدترین انسانی المیے کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : سعودی عرب کے چینل ایم بی سی کے خلاف عراقی عوام کا مظاہرہ

دوسری جانب سعودی اتحاد نے آج پیر کی صبح یمن کے صوبے صعدہ کے دیہی علاقوں پر میزائل اور توپ خانوں سے حملے کئے۔

المسیرہ ٹیلی ویژن چینل کی رپورٹ کے مطابق جارح سعودی اتحاد نے جنگ بندی کے دعووں کے بر خلاف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صعدہ کے مختلف علاقوں پر میزائلوں اور توپ کے گولوں سے حملے کئے۔ ابھی تک ان حملوں کے جانی نقصان کے بارے میں رپورٹ سامنے نہیں آئی۔

یمن میں سعودی اتحاد کی جارحیت ایسے میں جاری ہے کہ ماہ مبارک رمضان میں یمن میں کورونا کے پھیلاؤ کے پیش نظر اقوام متحدہ نے یمن پر حملے روکنے اور انسانی ہمدردی کے ناطے اس ملک کی مدد کرنے کی اپیل کی تھی۔

واضح رہے کہ سعودی عرب اور اس کے بعض اتحادی ممالک، امریکہ اور دیگر ملکوں کی حمایت کے زیر سایہ مارچ دوہزار پندرہ سے یمن پر وحشیانہ حملے کر رہے ہیں۔ اس عرصے میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید و زخمی جبکہ دسیوں لاکھ یمنی بے سر و سامانی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

پچھلے چند برسوں کے دوران مکمل زمینی، سمندری اور فضائی محاصرے کے باوجود یمنی فورسز کی دفاعی طاقت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close