اہم ترین خبریںیمن

یمن میں سعودی اتحادیوں کی بربریت، اب تک ساڑھے چھے ہزار بچے شہید و زخمی

شیعت نیوز : یمن کی مسلح افواج کے ترجمان نے اعلان کیا ہے کہ سعودی اتحادیوں نے گزشتہ دو ماہ کے دوران یمنی عوام کو دو ہزار سے زائد مرتبہ زمینی اور فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔

العالم نیوز چینل نے یمن کی مسلح افواج کے ترجمان یحیی السریع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ 9 اپریل سے اب تک جارح سعودی اتحادیوں نے یمن کے مختلف علاقوں پر دو ہزار ایک سو اکتالیس فضائی اور ایک سو پینتالیس زمینی حملے کئے ہیں۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ یمن پر سعودی اتحادیوں کی 1900 روز کی جارحیت میں کم از کم 43 ہزار افراد شہید و زخمی ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ نے عراق میں اپنی فوج کی تعداد کم کرنے کا اعلان کر دیا

العالم کی رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیم عین الانسانیہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ 26 مارچ 2015 کو سعودی اتحادیوں نے یمن پر جارحیت شروع کی اور اس وقت سے لے کر اب تک یمن میں 16 ہزار 672 افراد شہید ہوئے کہ جن میں 3 ہزار 742 بچے اور 2 ہزار 364 خواتین شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم عین الانسانیہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی اتحاد کی جارحیت میں 26 ہزار 79 افراد زخمی بھی ہوئے کہ جن میں 3 ہزار 992 بچے اور 2 ہزار 742 خواتین شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین نے گزشتہ روز اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ جنوری 2020 سے اب تک 94 ہزار سے زائد افراد یمن کے مختلف علاقوں میں اپنے گھر بار ترک کرنے پر مجبور ہوئے۔

سعودی عرب نے امریکہ، متحدہ عرب امارات اور چند دیگر ملکوں کی حمایت سے مارچ 2015 میں یمن پر فوجی جارحیت کی اور یمن کا زمینی، بحری اور فضائی محاصرہ کر رکھا ہے۔

یمنی عوام کو مستقل بنیادوں پر پانچ سال سے جاری سعودی جارحیت کے نتیجے میں بے روزگاری، مہلک بیماریوں اور وباؤں کے علاوہ شدید طور پر غذائی اشیاء اور دواؤں کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close