یمن

یمن پر سعودی جرائم اور نسلی تصفیے قابل تعزیر جرائم کے زمرے میں آتے ہیں

شیعت نیوز: بچوں کے حقوق کی تنظیم سیو دی چلڈرن نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ جنگ یمن میں سعودی جرائم ، گزشتہ ساڑھے چار سال میں پچاسی ہزار بچے حملوں اور غذائی قلت کے نتیجے میں بھوک مری کا شکار ہوکے جاں بحق ہوئے ہیں ۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک کروڑ ستانوے لاکھ یمنی شہری جن میں ایک کروڑ دو لاکھ بچے ہیں، علاج معالجے کی ابتدائی سہولتوں سے محروم ہیں اور پچھتر لاکھ افراد کو فوری غذائی امداد کی ضرورت ہے ۔

یہ بھی پڑھیں : جارح سعودی حکومت کے اندر جوابی کارروائیاں یمنی افواج کا مسلمہ حق ہے

حقیقت یہ ہے کہ یمن کے خلاف سعودی جارحیت میں وحشیانہ ترین جنگی، اور انسانیت کے خلاف جرائم اور نسلی تصفیے نیز امن عامہ کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا گیا۔یہ سبھی اقدامات بین الاقوامی فوجداری عدالت کے منشور کے مطابق، قابل تعزیر جرائم کے زمرے میں آتے ہیں ۔

لیکن سلامتی کونسل نے جس پر بین الاقوامی امن و سلامتی کے تحفظ کی ذمہ داری ہے، اس غیر مساوی جنگ اور وحشیانہ جارحیت کو بند کرانے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا ۔

بنابرین اس وحشیانہ مسلحانہ جارحیت پر اپنے ملک اور عوام کا دفاع یمن کی مسلح افواج کا ایسا مسلمہ حق ہے جو اقوام متحدہ کے منشور کے مطابق اس کو حاصل ہے ۔

سلامتی کونسل کی جانب سے یمن کے خلاف جارح سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیت کو بند کرانے کے لئے کوئی اقدام نہ کئے جانے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور سلامتی کونسل کے بعض دیگر مستقل اراکین اس جنگ میں سعودی حکومت کا ساتھ دے رہیں ۔

ان حالات میں یمن کی مسلح افواج اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ سلامتی کونسل سے جنگ بند کرانے کی کوئی امید رکھنےکے بجائے، اقوام متحدہ کے منشور کی شق نمبر اکیاون کے مطابق سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے مسلحانہ حملے کے مقابلے میں دفاعی کارروائیاں انجام دیں ۔

چنانچہ چودہ ستمبر کو سعودی حکومت کی تیل کی سرکاری کمپنی آرامکو کی ابقیق اور خریص ریفائنریوں تباہ کن ڈرون حملوں اور اس کے بعد سعودی عرب کے جنوبی علاقے نجران میں آپریشن نصرمن اللہ کو اقوام متحدہ کے منشور کی شق نمبر اکیاون کے مطابق یمن کی دفاعی کارروائیاں ہی سمجھنا چاہئے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close