یمن

یمن: شہر التحیتا میں گھروں اور مسجد پر جارح سعودی اتحاد کی گولہ باری

شیعت نیوز: یمن میں جارح سعودی اتحاد نے جمعرات کے روز الحدیدہ صوبے کے جنوبی شہر التحیتا میں شہریوں کے گھروں کو بھاری اور درمیانے ہتھیاروں سے بمباری کا نشانہ بنایا۔

یمن کے مغربی ساحل پر مشترکہ فورسز کے عسکری میڈیا نے بتایا کہ جارح سعودی اتحاد کی جانب سے الحدیدہ صوبے میں روزانہ کی بنیاد پر اقوام متحدہ کے زیر سرپرستی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔سعودی اتحاد نے التحیتا میں شہریوں کے گھروں اور مسجد الرحمن کو نشانہ بنایا۔

عسکری میڈیا کے مطابق سعودی اتحاد نے شہریوں کے گھروں پر آتشی ہتھیاروں سے فائرنگ کی۔ اس کے علاوہ جنونی طریقے بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں شہریوں بالخصوص بچوں اور خواتین میں دہشت اور افراتفری پھیل گئی۔

یہ بھی پڑھیں : ایف آئی آر کا اندراج، ملعون اشرف جلالی نے بیرون ملک فرار کی تیاری شروع کردی

مزید برآں سعودی اتحاد نے التحیتا شہر کے مغربی علاقے میں واقع جامع مسجد الرحمن کو بھی بھاری اور درمیانے ہتھیاروں سے نشانہ بنایا۔ یہ عبادت گاہوں اور اللہ کے گھروں کی حرمت کی کھلی پامالی ہے۔ سعودی اتحاد کی وحشیانہ کارروائی میں مسجد کے مینار اور مسجد کی دیواروں اور کھڑکیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

التحیتا کے لوگوں کا کہنا ہے کہ سعودی اتحاد کی جانب سے مقدس مقام کو نشانہ بنانے کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کے بعد سے یہ مجرمانہ سعودی اتحاد شہر میں مساجد کی ایک بڑی تعداد پر بمباری کر چکی ہے۔

سعودی اتحاد نے 15 جون کو التحیتا شہر میں ہی المشعشع قبرستان کو حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ اس کے نتیجے میں قبرستان کی بیرونی دیوار کو نقصان پہنچا۔

جارح سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں نے یمن کے صوبوں صعدہ اور مآرب پر شدید بمباری کر کے عام شہریوں اور رہائشی مکانات کو بھاری نقصان پہنچا۔

جمعرات کے روز سعودی اتحاد کی فوج نے الحدیدہ شہر میں دراندازی کی ناکام کوشش کی۔ اس دوران سعودی اتحادکے کم از کم 6 فوجی مارے گئے جب کہ ایک زخمی کو یمنی فورسز نے قیدی بنا لیا گیا۔

یمن کے ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ سقطری صوبے سے جارح سعودی آلہ کاروں کے پیچھے ہٹنے کے بعد متحدہ عرب امارات سے وابستہ فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرلیا ہے۔

 

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close