اہم ترین خبریںپاکستان

مسلح طالبان دہشت گردوں کا پاراچنار جیسے حساس علاقے میں داخل ہونا تعجب خیزہے، علامہ یوسف حسین

انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت پر یہ بھی واضح کیا ہے کہ آئندہ ایسی حرکتوں کا نہایت برا نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے

شیعت نیوز: تحریک حسینی پاراچنار کے صدر علامہ یوسف حسین جعفری نے کہا ہے کہ پاراچنار جیسے حساس علاقہ میں مسلح طالبان کا داخل ہونا تعجب کی بات ہے، طالبان نے ہمارے بچوں کو شہید کیا، ایسی حرکتیں ناقابل برداشت ہیں۔ اپنا پالیسی بیان دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ہم نے ذمہ دار افراد پر محرم سے قبل بھی یہ واضح کیا ہے کہ علاقے کی حساس صورت کے پیش نظر کسی اجنبی اور نان لوکل کو علاقے میں مسلح ہوکر حرکت کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ تحریک اور انجمن دو قومی ادارے ہیں۔ عوام ان سے بار بار استفسار کرتے ہیں۔ اور ہماری سرزنش بلکہ ہمیں دھمکیاں دی جاتی ہیں کہ تم لوگوں نے طالبان کے حوالے سے حکومت سے سودے بازی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسی صورت میں جبکہ ہم خود اس علاقے میں مسلح نہیں پھر سکتے، طالبان کا مسلح ہوکر درجنوں سرکاری چیک پوسٹیں عبور کرتے ہوئے ہمارے علاقے میں ایسے بے جگری سے پھیرنا نہایت معنی خیز ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاراچنارمیں جرگہ،شنگک میں امام بارگاہ کی جانب جانیوالی سڑک کا تنازعہ حل

انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت پر یہ بھی واضح کیا ہے کہ آئندہ ایسی حرکتوں کا نہایت برا نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے۔ کیونکہ طالبان نے دس سال تک ہماری جانوں اور املاک کو نقصان پہنچایا ہے، ہمارے مسافروں کو اغوا کرنے کے بعد اذیتیں پہنچائی ہیں۔ لہذا ہمارے جوانوں کے لئے انکی ایسی حرکتیں ناقابل برداشت ہیں۔

ارد گرد پہاڑوں میں داعش اور طالبان کی بڑے پیمانے پر موجودگی پر مبنی خبروں کے جواب میں علامہ یوسف جعفری کا کہنا تھا کہ دو ماہ قبل سابق بریگیڈیئر پاک فوج کے ساتھ اس حوالے سے ہم نے تفصیلی بات کی تھی۔ ہم نے ان سے یہ بھی کہا تھا کہ ہمارے پہاڑوں میں مشکوک افراد کی موجودگی ہمارے لئے پریشانیوں کا باعث ہے۔ چنانچہ اگر انہیں اس علاقے میں افراد کی ضرورت ہے، تو ہم خود جوان فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ کیونکہ اجنبی لوگوں پر ہمیں کوئی اعتماد نہیں۔ ماضی میں ایسے ہی لوگوں کے ہاتھوں ہم نقصان اٹھا چکے ہیں۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close