اہم ترین خبریںپاکستان

علامہ راجہ ناصرعباس کی موجود گی میں نامور شیعہ ذاکرین نے بڑا اعلان کردیا

ملت تشیع کے مجتہد عظام نے اہل سنت کے مسلمہ مقدسات کی توہین کو واضح طور پر حرام قرار دیا ہے۔قوم کے کسی غیر ذمہ دار فرد کے انفرادی عمل یا نامناسب اظہار رائے کو بنیاد بنا کر پوری ملت کو نشانہ بنانا کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔

شیعیت نیوز: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے ملک کے ممتاز ذاکرین،علماء اور خطباء کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے پُرامن حالات کو سن اسّی کی دہائی کی طرف موڑا جا رہا ہے۔مٹھی بھر متشدد عناصر ملک میں مذہبی منافرت کو ہوا دے کر ملک و قوم کے امن و سلامتی کو دائو پر لگانا چاہتے ہیں۔مفتیان اور متعصب شخصیات کی سرپرستی میں اشتعال انگیز ریلیاں اور گلی محلے میں تکفیریت کے نعرے بلند کر کے ساری دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ پاکستانی قوم غیر مہذب اور مذہبی جنونی ہے۔مسلکی ریلیوں میں متشدد فکر عناصر کو شامل کر کے امام بارگاہوں اور مساجد پر حملے کرائے جاتے ہیں جو عبادات گاہوں کے تقدس کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حالات کو سازگار رکھنے کے لیے طویل جدوجہد اور انگنت قربانیاں دینی پڑتی ہیں لیکن خرابی میںایک منٹ نہیںلگتا۔جو عناصر ملک کے حالات کو خرابی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں وہ ملک و قوم کے دشمن ہیں۔ملت تشیع کے مجتہد عظام نے اہل سنت کے مسلمہ مقدسات کی توہین کو واضح طور پر حرام قرار دیا ہے۔قوم کے کسی غیر ذمہ دار فرد کے انفرادی عمل یا نامناسب اظہار رائے کو بنیاد بنا کر پوری ملت کو نشانہ بنانا کسی بھی اعتبار سے درست نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھرہی طرح سجاول میں بھی کالعدم سپاہ صحابہ کی جعلی نام سے شیعہ مخالف فرقہ وارانہ ریلی ، حکومت خاموش

انہوں نے کہا کہ ”پیام پاکستان” قومی اتحاد کے لیے ایک بہترین دستاویز تھی۔اسے نظر انداز کرکے وحدت و اخوت کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ملت تشیع نے مذہبی ہم آہنگی کے لیے ہمیشہ رواداری اور باہمی احترام کو مقدم رکھا۔مختلف مسالک کی طرف سے اہلبیت اطہار علیہم السلام کی گستاخی کے واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن ہم نے ایسے عمل کو کبھی بھی کسی مسلک سے جوڑنے کی کوشش نہیں کیا بلکہ اسے انفرادی فعل قرار دیا۔ملت تشیع کے خلاف سوشل میڈیا پر مختلف وڈیو کلپس کی مسلسل تشہیر اس حقیقت کو آشکار کرتی ہے کہ ملک میں منظم انداز سے مذہبی منافرت کی مہم چلائی جا رہی ہے۔ شیعہ سنی قوتوں نے مل کر اس ملک کی تشکیل کی ، اس کی تکمیل کے لیے بھی متحد ہو کر آگے بڑھیں گے۔ اس بار چہلم امام حسین علیہ السلام پر شیعہ سنی وحدت کاعملی اظہار ہو گا۔ہمارے بھائی چارے کو ساری دنیا دیکھے گی اور ان مذموم عناصر کو منہ کی کھانی پڑے گی جو ملک میں فرقہ واریت دیکھنے کے لیے بے چین ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:آخری بار متوجہ کررہا ہوں! آغا حامد علی شاہ موسوی کاشیعہ ٹارگٹ کلنگ پرحکومت کو الٹی میٹم

ب وطن شیعہ و سنی اور بابصیرت افراد دشمن کی اس سازش کو اپنے اتحاد اور اتفاق کے ذریعہ ناکام بنا دیں گے۔قبلہ اول اورفلسطین میں بسنے والے مظلوم بین الاقوامی اسلام دشمن قوتوں کے دباو کا شکار ہیں۔ کشمیر کے عوام ایک سال سے زائد عرصہ سے مودی اسٹیبلشمنٹ اور انڈین آرمی کے محاصرہ میں ہیں ۔ کشمیر اور فلسطین میں بسنے والے مظلوموں کی آس پاکستان ہے ۔ ہم اپنی تقاریر اور خطبوں سے دنیا کو یہ پیغام دیں گے کہ ہم ان مظلوموں کے ساتھ ہیں ۔قائد اعظم اورعلامہ اقبال کے پاکستان کے بیانیہ کو مسخ کرنے کی بھر پور کوشش کی جارہی ہے۔ایک طرف اہل تشیع کو تقسیم در تقسیم دوسری طرف اہل سنت میں اندرونی خلفشار پیدا کرنا اور تیسری طرف اہل تشیع اور اہل سنت کو آپس میں لڑانے کی مذموم کوششیں کی جارہی ہیں ۔ ان حالات میں نواسہ رسول خدا ، شہید نینوا امام حسین علیہ السلام کے ذاکرین عظام وخطبا اعلان کرتے ہیں کہ”اپنا عقیدہ چھوڑو نہیں اور کسی کا عقید ہ چھیڑو نہیں ”کے اصول پر سختی سے کار بند ہیں اور رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد، کالعدم سپاہ صحابہ ریاستی سرپرستی میں بےلگام، ایک اور شیعہ عزادار شہید

ہم سب ذاکرین عظام و خطبا ءپوری امت کو اتحاد کی دعوت دیتے ہیں اور اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ فقہ جعفریہ کے مسلمہ عقائد کے مطابق ہم توحید ، عدل ، نبوت، امامت اور قیامت نیز مولامتقیان امام علی اور آئمہ علیہم السلام کی ولایت تکوینی کے قائل اور ان کو واسطہ فیض مانتے ہوئے اتحاد بین المسلمین اور اتحاد بین المومنین کی جدو جہد جاری رکھیںگئے ۔ ممبر حسینی سے مسلمہ مقدسات اہل سنت کی توہین کو اپنے علماء و مراجع کے فتویٰ کے مطابق حرام اور ناجائز سمجھتے ہیںاوراسی طرح احترام سادات ، مرکزیت ، راہبریت ، مرجعیت اور عزاداری ِسید الشہدا کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔بالخصوص اس سال چہلم امام حسین علیہ السلام کا دن شیعہ سنی وحدت کاعظیم دن ہو گاجس سے دشمن کے سب حربے ناکام ہونگے۔ تمام محبان اہل بیت علم حضرت عباس کے سائے میں پاکستانی پرچم بلند کرتے ہوئے چہلم امام حسین علیہ السلام میں شریک ہوں گے ۔ہم شہدائے پاکستان و شہدائے کشمیر کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور وطن کا دفاع کرنے والے ہر فرد بشمول افواج پاکستان ، پولیس ، رینجرز ، اور دیگر اداروں کے اہلکاروں سمیت سول ادارون کے اہلکاروں اور دہشت گردی کا شکار ہونے والے 70ہزار سے زائد شہیداکو خراج عقیدت پیش کرتے ہیںاور عہد کرتے ہیں کہ انکے خون سے وفا کریں گے۔ہم وطن عزیز میں دشمن کی طرف سے نفرت پھیلانے، کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے اور محبت کو رواج دیں گے ۔امام حسین سب کے ہیں مجالس عزا کاایسا ماحول بنائیں گے کہ سب حسینی اس میں شریک ہو سکیں ۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ محرم الحرام میں عزاداروں، خطبا اور واعظین کے خلاف ایف آر ختم کی جائیں ۔

یہ بھی پڑھیں: یورپی یونین: یمنی عوام کے قتل عام کے جرم میں سعودی عرب پر ہتھیاروں کی پابندی عائد کی جائیں

ہم شیعہ سنی علما ءکے ساتھ ملکر وطن عزیز میں بھائی چارے اور باہمی رواداری کی ترویج کریں گے ۔مبنر حسینی کے تقدس کا پامال کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے ۔حدیث شریف میں ہے کہ مومن مومن کا آئینہ ہوتا ہے ۔ہم ذاکرین اور خطبا ایک دوسرے کو اچھائی کے کاموں کو تلقین اور نصیحت کریں گے تاکہ منبر حسینی کی افادیت برقرار رہے ۔پاکستان میں علما ءکے ساتھ مسلسل رابطہ رکھیں گے تا اگر کہیں مشکل پیش آتی ہے تو اس کا بروقت ازالہ ہو سکے۔فرقہ واریت پھیلانے کی ہر کوشش کی مذمت کرتے ہیں اور اس کا راستہ بھی روکیں گے ۔پاکستان میں اہل تشیع کے خلاف مظاہروں کی مذمت کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان وطن دشمن اور اسلام دشمن مظاہروں کو روکے ۔شیعہ سنی علما سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ آگے بڑھیں،ہم ان کا ساتھ دیں گے تا کہ ملک میں امن و امان کی فضا کو بہتر بنایا جا سکے ۔جو شخص بھی ملک میں فتنہ گری کرے گا، یا نفرتیں پھیلائے گا ، فرقہ واریت کو ہوا دے گا ، اس سے ابھی سے اعلان تعلقی کرتے ہیں اور اس کا راستہ بھی روکیں گے ۔اصلاح اور واپسی کا راستہ کبھی بھی بند نہیں ہونا چاہئے، لہذا جو بھی اپنی اصلاح کرتا ہے ، دین اسلام ، عزاحسینی اور وطن کی خدمت کرنا چاہتا ہے ، اسے ایک اچھا عمل سمجھتے ہوئے اس کی حوصلہ افزائی کریں گے ۔

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close