کاپی رائٹ کی وجہ سے آپ یہ مواد کاپی نہیں کر سکتے۔
پاکستان

نائیجیرین حکومت مبلغ اسلام آیت اللہ زکزکی کو فوری رہا کرئے، سبطین سبزواری

عوام ان کی رہائی کیلئے نائجیریا کی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں۔ مگر ظالم حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں ان واقعات کا واقعہ کا نوٹس لیں

شیعت نیوز: شیعہ علماء کونسل شمالی پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے اسلامی تحریک نائیجریا کے سربراہ آیت اللہ ابراہیم زکزکی کی جیل میں زندگی کو لاحق خطرات اور حکومت کی طرف سے غیر قانونی ظالمانہ پابندیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

زکزی وہ مجاہد عالم دین ہیں ہیں جنہوں نے نائیجیریا میں اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا اور کروڑوں کی تعداد میں اسلام کی طرف آنیوالے عوام ان کی قوت بنتے گئے لیکن استعماری قوتوں اور متعصب طبقات کو یہ عوامی بیداری برداشت نہ ہوئی اور ان پر ظالمانہ ریاستی مشینری کے استعمال سے ان کے حوزہ علمیہ پر حملہ کیا جس میں سینکڑوں افراد کو شہید کر دیا گیا اور انہیں اہلیہ سمیت زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔

یہ خبر بھی لازمی پڑھیں: سنچری ڈیل کے نام پر اسرائیل کو تسلیم کرانے کی مہم شیطانی سازش ہے،علامہ سبطین سبزواری

لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ نائجیریا کے قائد ملت اسلامیہ کی گرفتاری کے بعد انہیں ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی جا رہی ہیں مگر ان کے پایہ استقلال میں لغزش نہیں آئی۔ وہ پہاڑ کی طرح مضبوط اعصاب کے مالک ہیں اور یزیدی حکومت کیخلاف کھڑے ہیں۔ اس انقلابی شخصیت کی زندگی کو جیل میں خطرات لاحق ہیں، کچھ رپورٹس کے مطابق ان کو زہر دیا جا رہا ہے اور علاج کی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں۔ جو غیر انسانی اور غیر اخلاقی اقدام ہے۔ وہ اپنے 6 بیٹوں کو راہ کربلا میں شہید کروا چکے ہیں۔

عوام ان کی رہائی کیلئے نائجیریا کی پارلیمنٹ کے سامنے احتجاج کر رہے ہیں۔ مگر ظالم حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں ان واقعات کا واقعہ کا نوٹس لیں اور انہیں رہا کروایا جائے۔ دسمبر2015 ءمیں تین سال قبل آیت اللہ ابراہیم زکزکی کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر فوج نے دباو ڈالا مگر وہ ڈٹے رہے۔

ٹیگز
Show More

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close