اہم ترین خبریںشیعت نیوز اسپیشلمقالہ جات

لعنت کو گالی کہنا اللہ اور رسول ص کی توہین ہے

لعنت کو گالی کہنا اللہ اور رسول ص کی توہین ہے

لعنت کو گالی کہنا اللہ اور رسول ص کی توہین ہے کیونکہ اللہ نے اپنی آخری کتاب وحی یعنی قرآن میں اللہ اور رسول کو اذیت دینے والوں پر دنیا و آخرت میں لعنت کی ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ دیگر آیات میں ظالمین و کاذبین و دیگر پر بھی لعنت کی ہے۔ دیوبندی شیخ الہند محمود الحسن نے اس آیت کا اردو ترجمہ پھٹکار کیا ہے۔ یعنی اگر کوئی کہے کہ فلاں پر اللہ کی لعنت تو دیوبندی مسلک کے شیخ الہند کے الفاظ میں اسکا اردو مفہوم ہوگا کہ فلاں پر اللہ کی پھٹکار۔

لعنت کو گالی کہنااللہ اور رسول ص کی توہین ہے

خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں

پاکستان میں لفظ لعنت کو فسادی ملاؤں اور انکے پیروکاروں نے گالی قرار دے کر قرآنی آیات کو بھی گالی قرار دے دیا ہے۔ یعنی یہ بد بخت تکفیری و ناصبی مولوی اللہ کے مجرم ہیں۔ اور ایک پاکستانی مکی حجازی نام کا مولوی خانہ کعبہ کے ساتھ مسجد الحرام میں بیٹھ کر اللہ اور رسول خاتم النبیین ﷺ کو اذیت دیتا ہے۔ ایسوں ہی کو دیکھ کر علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آجاتا ہے

خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ بے توفیق فقیہان حرم

لعنت کو گالی کہنا اللہ اور رسول ص کی توہین ہے

حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا

صحاح ستہ کی معتبر کتاب مسلم شریف میں رسول اکرم خاتم الانبیاء ﷺ کے صحابی حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا: جو شخص اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسکو اس طرح پگھلائے گا جس طرح نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا غضب اور لعنت

صحیح مسلم ہی میں اس سے ملتی جلتی دوسری حدیث میں یوں ہے کہ جو شخص بھی اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا، اللہ تعالیٰ اسکو دوزخ کی آگ میں رانگ کی طرح پگھلادے گا۔

صحیح ابن حبان سراج المنیر میں رسول اکرم ص کے صحابی حضرت جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ خاتم الانبیاء ﷺ نے فرمایاجو اہل مدینہ کو ڈرائے گا، اللہ اسکو قیامت کے دن ڈرائے گااور ایک روایت ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب اور لعنت ہے۔

لعنت کو گالی کہنااللہ اور رسول ص کی توہین ہے

اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت

یہ ساری احادیث مشہور اہلسنت کتب احادیث میں موجود ہیں۔ وفاء الوفا اور جذب القلوب میں حضرت عبادہ بن صامت سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو اہل مدینہ کو ظلم سے خوف زدہ کرے گا اللہ اسکو خوفزدہ کرے گااور اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہے۔ قیامت کے دن اسکی نہ تو فرضی عبادت قبول ہوگی اور نہ ہی نفلی عبادت۔

حضرت عمر بن خطاب کے بیٹے عبداللہ بن عمر

لعنت کو گالی کہنااللہ اور رسول ص کی توہین ہے

سراج المنیر میں خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب کے بیٹے عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ ”جواہل مدینہ کو اذیت دے گا، اللہ اسکو اذیت دے گا اور اس پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔ نہ اسکا فرض قبول ہوگا اور نہ نفل۔“

صحاح ستہ کی کتاب سنن ابوداؤد میں نبی کریم ﷺ کی لعنت سے متعلق حدیث ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ یا تو لعنت جس کوبھیجی گئی ہے اگر وہ اسکا حقدار ہے تو اس پر لگے گی ورنہ لعنت بھیجنے والے کی طرف لوٹ جائے گی۔

لعنت سنت الٰہی و سنت خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ

یہ چند مثالیں ایک مومن مسلمان کے لیے بہت کھلا پیغام ہے کہ لعنت سنت الٰہی و سنت خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ ہے۔ جس جس نے لعنت کو گالی قرار دیا، وہ سب اللہ اور اللہ کے رسول خاتم الانبیاء ﷺ اور قرآن و سنت کے منکر اور مخالف ہیں۔

گالیاں دینے والا کون

اہل سنت کے ہاں اسلامی تاریخ کی قدیمی و معتبر کتب طبقات ابن سعد، الطبری، الاستیعاب، ابن الاثیر اور البدایہ والنہایہ ہیں اور ان سب میں تحریر ہے کہ معاویہ بن ابوسفیان کے دور حکومت سے معاویہ خود اور انکے حکم سے ان کے تمام گورنر خطبوں میں برسر منبر امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو گالیاں دیا کرتے تھے۔ لعنت تو گالی نہیں ہے لیکن سب و شتم گالی ہی ہوتی ہے۔

سید ابولاعلیٰ مودودی خلافت و ملوکیت

معاویہ بن ابوسفیان کے دور حکومت سے قبل از عمر بن عبدالعزیز دور حکومت تک مسجد نبوی مدینہ میں منبر رسول ﷺ پر عین روضہ نبوی ﷺ کے سامنے حضور اکرم ﷺ کے عزیزوں کو گالیاں دی جاتیں تھیں۔ اور حضرت علی ؑ کی اولاد اور انکے قریب ترین رشتے دار اپنے کانوں سے یہ گالیاں سنتے تھے۔ یہ سب کچھ جماعت اسلامی پاکستان کے بانی سید ابولاعلیٰ مودودی نے اپنی تصنیف خلافت و ملوکیت میں بھی نقل کیا ہے۔

معاویہ بن ابوسفیان مسلمانوں کے بنانے سے خلیفہ نہیں بنے

مودودی صاحب بھی دیوبندی عالم تھے اور انہوں نے خلافت و ملوکیت میں لکھا ہے کہ معاویہ بن ابوسفیان مسلمانوں کے بنانے سے خلیفہ نہیں بنے تھے بلکہ انہوں نے لڑ کر خلافت حاصل کی تھی۔ سنی تاریخی کتاب البدایہ و النہایہ کے مطابق معاویہ نے مدینہ طیبہ میں ایک خطاب میں اہل مدینہ سے کہا تھا کہ ”واللہ۔۔میں جانتا ہوں کہ تم میرے برسر اقتدار آنے سے خوش نہیں ہواور اسے پسند نہیں کرتے۔ اس معاملے میں جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے، میں اسے خوب جانتا ہوں۔ مگر میں نے اپنی اس تلوار کے زور سے تمہیں مغلوب کررکھا ہے۔

اللہ و رسول کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی معاویہ نے کی

قدیم سنی تاریخی کتب میں بھی یہ لکھا ہے اور سید ابوالاعلیٰ مودودی کے مطابق مال غنیمت کی تقسیم کے معاملہ میں بھی معاویہ بن ابوسفیان نے اللہ کی کتاب اور اللہ کے رسول کی سنت کے صریح احکام کی خلاف ورزی کی۔

یزید بن معاویہ کو جانشین خلیفہ نامزد کیا

اہل سنت کی کتب الاستیعاب، اب اثیر، البدایہ و النہایہ، ارشاد الساری فتح الباری، طبری میں تحریر تاریخی واقعات کے مطابق معاویہ بن ابوسفیان نے اپنے بیٹے یزید بن معاویہ کو جانشین خلیفہ نامزد کرکے اس دور کے بزرگان کو اسکی پیشگی بیعت کرنے کے لیے لالچ اور دھمکی سے کام لیا۔

 سنی عقیدہ ..لعنت کرنا جائز ہے

اسی طرح امام احمد قسطلانی نے شارح صحیح بخاری کی رائے ارشاد الساری میں ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ بعض علماء نے یزید پر لعنت کا اطلاق کیا ہے۔ جیسا کہ سعدالدین تفتازانی کا یزید پر لعنت کرنا نقل کیا گیا ہے اس لیے کہ جب اس نے امام حسین ع کے قتل کا حکم دیا تھا وہ کافر ہوگیا تھا۔ اور جمہور علماء اس پر متفق ہیں کہ جس نے امام کو قتل کیا اور جس نے قتل کا حکم دیا اور جس نے اسکی اجازت دی اور جو انکے قتل پر راضی ہوا اس پر لعنت کرنا جائز ہے۔

اللہ کی لعنت ہو یزید پر اور اسکے دوستوں اور مددگاروں پر

ارشاد الساری میں امام احمد قسطلانی نے اسی پر مزید فریا کہ ”حق بات یہی ہے کہ یزید کا امام کے قتل پر راضی ہونا اور اس پر خوش ہونا اور اہل بیت نبوت ﷺ کی توہین کرنا تواتر معنوی کے ساتھ ثابت ہوچکا ہے اگر چہ اسکی تفاصیل احاد ہیں پس ہم نہیں توقف کرتے اسکی شان میں بلکہ اسکے ایمان میں اللہ کی لعنت ہو اس پر اور اسکے دوستوں اور مددگاروں پر۔“ علامہ سعد الدین تفتازانی کا موقف شرح عقائد میں بھی درج ہے۔

علامہ جلال الدین سیوطی سنی مورخ و عالم کا موقف

علامہ جلال الدین سیوطی سنی مورخ و عالم کا موقف تاریخ الخلفاء میں موجود ہے کہ: اللہ کی لعنت ہو امام حسین ع کے قاتل ابن زیاد اور یزید (بن معاویہ) پر۔

 امام احمد بن حنبل یزید کے کفر کے قائل

اسعاف الراغبین میں علامہ شیخ محمد بن علی الصبان کے مطابق معروف اہل سنت فقہی امام از آئمہ اربعہ امام احمد بن حنبل یزید کے کفر کے قائل ہیں۔ یہاں تک اہل سنت کے معتبر بزرگان کی اپنی کتب سے بھی ثابت ہے کہ لعنت گالی نہیں ہے۔ اور امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں، قتل کا حکم دینے والوں اور قتل پر راضی رہنے والوں سب پر لعنت ہے۔

دس محرم یوم عاشورا کراچی

اس لیے دس محرم یوم عاشورا کو کراچی میں زیارت عاشورا پڑھ کر ان سب پر لعنت بھیجی گئی جو سنی اہل سنت مسلک کے مطابق بالکل جائز عمل ہے۔ جو افراد امام حسین ع کے قاتلوں پر لعنت کا صحابہ پر گالی کہہ رہے ہیں وہ کاذبین و ظالمین ہیں۔ اور اللہ نے قرآن میں کاذبین اور ظالمین پر بھی لعنت کی ہے۔ یہ بھی لعنتی ہوگئے۔

ام المومنین بی بی عائشہ کے بھائی عبدالرحمان بن ابوبکر اور محمد بن ابوبکر

اب آتے ہیں معاویہ بن ابوسفیان کے ایشو پر۔ سب سے پہلے تو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کی بیویاں یعنی ازواج مطہرات اور اس رشتے سے ہم سارے مومنین کی ایسی ماؤں کی تعداداور انکے والدین اور بھائی بہن کی تعداد کتنی بنتی ہے۔ معاویہ بن ابوسفیان کو خال المومنین کہہ کر دفاع کرنے والے یہ بتائیں کہ کیا ام المومنین بی بی عائشہ کے بھائی عبدالرحمان بن ابوبکر اور محمد بن ابوبکر خال المومنین نہیں تھے۔ معاویہ بن ابوسفیان نے انکے ساتھ کیا کیا؟

چوتھے خلیفہ راشد کے باغی کی شرعی حیثیت

مسلمانوں کا وہ طبقہ جو کہتا ہے کہ پہلے چار خلفاء کی خلافت راشدہ تھی تو چوتھے خلیفہ راشد کے باغی کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ حضرت عمارؓ بن یاسر صحابی رسول ﷺ کی شہادت کے بعد تو سب پر حق و باطل آشکار ہوچکا تھا۔ غزوہ خندق میں حضرت عمار ؓ کے سر پر دست شفقت پھیر کر فرمایا کہ ”افسوس تجھ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔“ یہ حدیث تو حضرت عمار ؓ کی زندگی ہی میں سارے صحابہ جانتے تھے۔ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی ﷺ کی اس مبارک حدیث کو برصغیر میں اردو زبان میں علامہ شبلی نعما نی و علامہ سلیمان ندوی نے کتاب بعنوان سیرت النبی ﷺ کی جلد سوم میں بیان کیا ہے۔

 عمارؓ بن یاسر صحابی رسول ﷺ کی شہادت

سیرت النبی جلد سوم (علامہ شبلی نعمانی و سلیمان ندوی) میں تحریر ہے کہ یہ پیشن گوئی متعدد (یعنی بہت سارے) صحابہ سے منقول ہے۔ مزید لکھا ہے کہ حضرت عمار ؓ، حضرت علی ؑ کی معیت میں (یعنی حضرت علی ؑ کے ساتھ تھے) اور معاویہ بن ابوسفیان کے ساتھیوں کے ہاتھ سے جنگ صفین میں شہید ہوئے۔

دیوبندی جماعت اسلامی پاکستان کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی نے بھی اپنی تصنیف خلافت و ملوکیت میں اسی مذکورہ بالا حقیقت کو اور زیادہ ریفرنسز کے ساتھ پیش کیا۔ جنگ صفین میں حضرت عمارؓ کی شہادت نے نص صریح سے یہ بات کھول دی کہ کون حق پر اور کون باطل پر تھا۔

حضرت علی ؑ حق پر معاویہ باغی

سنی حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں بھی واضح لکھا کہ اس سے نبی ﷺ کی دی ہوئی اس خبر کا راز کھل گیا کہ حضرت عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا اور اس سے یہ بات ظاہر ہوگئی کہ حضرت علی ؑ حق پرہیں اور معاویہ باغی۔

جس کو اللہ اور اللہ کے رسول خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ نے باغی قرار دیا، جو مسلمانوں کے ایک طبقے کی خلافت راشدہ کا گستاخ اور باغی تھا، جس نے مسلمانوں کے اس طبقے کے چوتھے خلیفہ راشد کو گالیاں دیں اورمسجد نبوی میں روضہ رسول ص کے سامنے اس کے حکم سے حضرت علی ؑ کو گالیں دیں گئیں۔ ا اور خال المومنین محمد بن ابوبکر کو قتل کیا۔ حضرت عمار یاسر کا سر کاٹنے والا بھی معاویہ بن ابوسفیان کا لشکر تھا۔

یزید بن معاویہ بن ابوسفیان

اس تحریر میں ہم متعدد تاریخی ریفرنس کے ساتھ یہ نقل کرچکے کہ معاویہ بن ابوسفیان نے اس وقت کے بزرگان کی شدید مخالفت کے باوجود اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین خلیفہ بنایا۔ یعنی جانتے بوجھتے، دیدہ و دانستہ۔ تاریخی کتب میں لکھا ہے کہ یزید بن معاویہ نے امام حسین علیہ السلام کے قتل پر یہ اشعار کہے
(اردو ترجمہ): کہاں ہیں میرے بزرگ کہ وہ میرا بدلہ لینا دیکھ لیں آل محمد اور بنی ہاشم سے۔ میں جندب کی اولاد میں سے نہیں ہوں گا اگر میں احمد کی اولاد سے بدلہ نہ لوں۔

یزید بن معاویہ نے جنگ بدر کے مقتول مشرکین مکہ کا بدلہ لیا

سبط ابن جوزی نے تذکرۃ الخواص میں لکھا ہے کہ یزید نے امام حسین ع کے کٹے ہوئے سر کی توہین کرتے وقت ابن زبعری کے اشعار گنگنائے جس میں یہ شعر بھی شامل تھا: ہم نے بنی ہاشم کے بزرگان کو بدر کے مقتولین کے بدلے کے طور پر قتل کیا ہے۔

لعنت کرنا اللہ اور رسول ص کی سنت ہے، گالی نہیں

اسی لیے اس پر اور اسکو جانتے بوجھتے، دیدہ و دانستہ خلیفہ بنانے والے پر بھی لعنت ہے۔ اور لعنت کرنا اللہ اور رسول ص کی سنت ہے، گالی نہیں ہے۔ خلیفہ راشد، داماد رسول، نفس محمد مصطفی۔ امیر المومنین مولا علی ؑ کو روضہ رسول ﷺ کے سامنے منبر مسجد نبوی سے گالیاں دینے اور ان گالیوں کا حکم دینے والے حکمران پر لعنت پر اعتراض کا مطلب کیا ہے!؟ لعنت کو گالی کہنا اور گالیاں دینے والے کو صحابی کہنا، اللہ، اللہ کے رسول محمد خاتم الانبیاء، اہل بیت نبوۃ ﷺ اور خلافت راشدہ کی شان میں کھلی گستاخی ہے۔

وہ سارے مباہلہ کرلیں

اس تنازعہ کا بہت آسان حل ہے کہ فریقین مباہلہ کرلیں۔ اہل بیت نبوۃ ﷺ کو اذیت دینے والوں پر اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینے والوں پر لعنت ہے یا نہیں۔ جناب سیدہ بی بی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا و امام حسن و حسین و مولا امیر المومنین علیہم السلام اہل بیت نبوۃ ﷺ ہیں۔ اور ان کے دشمنوں پر ، قاتلوں پر اذیت دینے والوں پر لعنت قرآ نی آیات کی رو سے جائز ہے۔

جو کہتا ہے کہ لعنت گالی ہے ، اور اہل بیت نبوۃ کے دشمنوں پر قاتلان امام حسین ع پر لعنت کرنے والوں کو کافر اور رافضی کہتا ہے، وہ سارے مباہلہ کرلیں تاکہ قیامت تک لعنت اس کے مستحق پر برستی رہے۔ جسے بھی شوق ہے وہ زیارت عاشورا میں اس حوالے سے لعنت کے جملے دہرانے والوں سے مباہلہ کرلے۔ یہ مباہلہ کا دور ہے۔

تحریر : محمد بن ابوبکر فاطمی
لعنت کو گالی کہنااللہ اور رسول ص کی توہین ہے
یوم عاشورا دس محرم اجر رسالت کی ادائیگی کا دن

 

 

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Back to top button
Close